لبنان کی قومی خبر ایجنسی کے مطابق نعیم قاسم نے کہا کہ حالیہ امریکی پابندیاں، جو حزب اللہ سے منسلک نو افراد پر عائد کی گئی ہیں، ہماری عزم کو مزید مضبوط کریں گی۔

انہوں نے بیروت حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ان اقدامات کے خلاف کوئی واضح مؤقف اختیار نہیں کیا۔

حزب اللہ رہنما نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اسرائیل کا حتمی مقصد لبنان پر قبضہ کرنا ہے، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی تفصیلی ثبوت پیش نہیں کیا۔

ایک علیحدہ بیان میں نعیم قاسم نے لبنانی حکومت کو اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے بھی باز رہنے کا مشورہ دیا، ایسے وقت میں جب اگلے ماہ واشنگٹن میں اس نوعیت کے مذاکرات کے چوتھے دور کی تیاری کی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ براہِ راست مذاکرات مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہیں اور یہ اسرائیل کے لیے فائدہ مند ہیں۔

نعیم قاسم نے لبنانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ امریکا کے دباؤ میں آ کر ایسے فیصلے نہ کریں جن سے اسرائیل کو فائدہ پہنچے۔ ایسے اقدامات مزاحمتی قوتوں کے لیے نقصان دہ ہوں گے۔

خیال رہے کہ حزب اللہ کی جانب سے یہ بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیوں اور ممکنہ مذاکراتی عمل کے تناظر میں دیے جا رہے ہیں، جن سے اندرونی سیاسی کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔