جاپانی نشریاتی ادارے ’دی جاپان ٹائمز‘ کے مطابق عدالت نے کو جی ڈائمن کو 2016 میں اپنی بیٹی ریہو فکویاما کے ساتھ زیادتی کرنے کے جرم میں سزا سنائی۔ اُس وقت ریہو ہائی اسکول میں زیرِ تعلیم تھیں۔

ملزم نے جرم کا اعتراف تو کیا، مگر عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ میری بیٹی ایسی حالت میں تھی کہ وہ مزاحمت کر سکتی تھی، مگر جج توشی آکی اومیزاوا نے فیصلے میں کہا کہ متاثرہ لڑکی آج تک جسمانی اور ذہنی اذیت میں مبتلا ہے، اس لیے جرم کے نتائج نہایت سنگین ہیں۔

ریہو فکویاما کے مطابق زیادتی کا سلسلہ اُن کے مڈل اسکول کے زمانے سے شروع ہوا، جب ان کی والدہ گھر پر موجود نہیں ہوتیں۔

خیال رہے کہ ریہو نے مارچ 2024 میں اپنے والد کی گرفتاری کے بعد اپنی شناخت ظاہر کرتے ہوئے معاملہ عوام کے سامنے لانے کا فیصلہ کیا۔ جاپان میں یہ قدم نہایت غیر معمولی سمجھا جاتا ہے کیونکہ بہت کم متاثرین ایسے جرائم میں اپنا نام ظاہر کرتے ہیں۔

عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ریہو نے کہا کہ میں نے فیصلہ سن کر سکون کا سانس لیا۔ میں دنیا کو بتانا چاہتی ہوں کہ خاندانی سطح پر بھی جنسی تشدد موجود ہے۔ براہِ کرم متاثرین سے منہ مت موڑیں۔

انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ مجھے خدشہ تھا کہ لوگ میری بات پر یقین نہیں کریں گے۔ میں ایک ایسا معاشرہ چاہتی ہوں، جہاں اگر کوئی کہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو سب سے پہلا جواب یہ ہو کہ یہ تمہاری غلطی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ ریہو فکویاما جاپان کی اُن چند خواتین میں شامل ہو گئیں، جنہوں نے جنسی تشدد کے خلاف کھل کر آواز اٹھائی۔ ان سے قبل صحافی شیوری اِتو اور سابق فوجی اہلکار رینا گونوی نے بھی اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کو عوام کے سامنے رکھا، دونوں کو حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ شدید آن لائن نفرت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل نے غزہ میں جنگ بندی دوبارہ بحال کر دی، امدادی سامان کی ترسیل آج سے ہوگی

یاد رہے کہ ریہو کا یہ کیس ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب جاپان میں جنسی جرائم کے قوانین میں بتدریج اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ 2017 میں ریپ کی تعریف میں توسیع کی گئی، جب کہ 2023 میں متاثرہ شخص کے لیے تشدد یا دھمکی ثابت کرنے کی شرط ختم کر دی گئی۔

دوسری جانب ریہو فکویاما کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ان قانونی تبدیلیوں سے قبل پیش آیا، اسی لیے پراسیکیوشن نے اُن کے والد پر پرانے قانون کے تحت فردِ جرم عائد کی۔