تفصیلات کے مطابق نیگاتا صوبے میں واقع  کاشی وازاکی کاریوا نیوکلیئر پاور پلانٹ  2011 کے فوکوشیما حادثے کے بعد سے بند تھا۔ نیوکلیئر ریگولیٹر کی جانب سے حتمی منظوری ملنے کے بعد اسے بدھ کے روز دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں شروع کی گئی تھیں۔

تاہم جمعرات کو پلانٹ کے آپریٹرز، ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) نے بتایا کہ ری ایکٹر کو شروع کرنے کے طریقۂ کار کے دوران مانیٹرنگ سسٹم سے ایک الارم بج گیا، جس کے باعث کارروائی روک دی گئی ہے۔

سائٹ کے سپرنٹنڈنٹ تاکیوکی اناگاکی نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ہمیں توقع نہیں کہ یہ مسئلہ ایک یا دو دن میں حل ہو جائے گا اور اس وقت یہ کہنا ممکن نہیں کہ اس میں کتنا وقت لگے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال ہماری پوری توجہ اس بات کی نشاندہی پر مرکوز ہے کہ اصل میں ہوا کیا ہے۔

ٹیپکو کے ترجمان تاکاشی کوبیاشی نے عالمی خبررساں ادرےاے ایف پی کو بتایا کہ الارم بجنے کے بعد کمپنی نے ممکنہ طور پر خراب برقی آلات کی جانچ شروع کر دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب یہ واضح ہو گیا کہ مسئلے کے حل میں وقت لگے گا تو منصوبہ بند طریقے سے کنٹرول راڈز کو دوبارہ ری ایکٹر میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ان کے مطابق ری ایکٹر مکمل طور پر مستحکم ہے اور باہر کسی قسم کا تابکار اثر نہیں ہے۔

واضح رہے کہ کنٹرول راڈز وہ آلات ہوتے ہیں جو ری ایکٹر کور میں نیوکلیئر چین ری ایکشن کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ انہیں جزوی طور پر نکال کر ردِعمل کو تیز اور گہرائی میں ڈال کر اسے سست یا مکمل طور پر روکا جا سکتا ہے۔

پلانٹ کو دوبارہ شروع کرنے کا عمل ابتدائی طور پر منگل کو طے تھا، تاہم گزشتہ ہفتے کے آخر میں کنٹرول راڈز سے متعلق ایک اور تکنیکی مسئلے کی نشاندہی کے بعد اسے مؤخر کر دیا گیا تھا۔ ٹیپکو کے مطابق یہ مسئلہ اتوار کو حل کر لیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ  کاشی وازاکی–کاریوا پلانٹ  پیداواری صلاحیت کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا جوہری پاور پلانٹ ہے جس کے سات ری ایکٹر ہیں اور جن میں سے ایک ہی فعال تھا۔ یہ پاور پلانٹ سالانہ 8.212 ملین کلو واٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پرتشدد احتجاج کے دوران 3117 افراد ہلاک ہوئے، ایرانی میڈیا

یہ پلانٹ 2011 میں آنے والے شدید زلزلے اور سونامی کے بعد بند کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں فوکوشیما نیوکلیئر پاور پلانٹ کے تین ری ایکٹرز پگھل گئے تھے اور جاپان نے عارضی طور پر جوہری توانائی سے دستبرداری اختیار کر لی تھی۔

تاہم وسائل سے محروم جاپان اب جیواشم ایندھن پر انحصار کم کرنے، 2050 تک کاربن غیر جانبداری حاصل کرنے اور مصنوعی ذہانت سمیت بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوبارہ جوہری توانائی کو بحال کرنا چاہتا ہے۔