غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق یہ دفاعی بجٹ اپریل 2026 سے شروع ہونے والے مالی سال کے مجموعی 122.3 کھرب ین (784 ارب ڈالر) کے قومی بجٹ کا حصہ ہے، تاہم حتمی منظوری پارلیمنٹ سے مارچ تک لینا ہوگی۔ یہ جاپان کی پانچ سالہ دفاعی منصوبہ بندی کا چوتھا سال ہے، جس کے تحت دفاعی اخراجات کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2 فیصد تک بڑھایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم سانائے تاکائیچی کی حکومت کی جانب سے چین پر بڑھتی تشویش کے باعث دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے نومبر میں کہا تھا کہ اگر چین نے تائیوان کے خلاف کارروائی کی تو جاپان کی فوج اس میں شامل ہو سکتی ہے، جس پر بیجنگ نے شدید ردعمل دیتے ہوئے جاپان کے خلاف سفارتی اور اقتصادی اقدامات کیے تھے۔

پانچ سالہ منصوبے کے تحت جاپان امریکا اور چین کے بعد دنیا کا تیسرا بڑا دفاعی خرچ کرنے والا ملک بننے جا رہا ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق جاپان مارچ تک دفاعی اخراجات کو 2 فیصد ہدف تک پہنچانے کی راہ پر گامزن ہے، جب کہ امریکا کی جانب سے اس ہدف کو مقررہ وقت سے پہلے حاصل کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جا رہا ہے۔

جاپان نے طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیتوں میں بھی نمایاں اضافہ شروع کر دیا ہے، جو دوسری جنگ عظیم کے بعد اپنائی گئی دفاعی پالیسی سے ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔ 2022 میں اپنائی گئی قومی سلامتی حکمت عملی میں چین کو جاپان کے لیے سب سے بڑا اسٹریٹجک چیلنج قرار دیا گیا ہے۔

نئے دفاعی بجٹ کے تحت 970 ارب ین سے زائد رقم جدید “اسٹینڈ آف” میزائل صلاحیتوں کے لیے مختص کی گئی ہے، جن میں ایک ہزار کلومیٹر تک مار کرنے والے مقامی طور پر تیار کردہ ٹائپ 12 میزائلوں کی خریداری بھی شامل ہے۔

اس کے علاوہ جاپان ساحلی دفاع کے لیے بغیر پائلٹ فضائی، بحری اور زیرِ آب ڈرونز کے بڑے نیٹ ورک پر 100 ارب ین خرچ کرے گا، جسے “شیلڈ” نظام کا نام دیا گیا ہے اور اس کے 2028 تک فعال ہونے کی توقع ہے۔

خیال رہے کہ چین کے ساتھ کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب حالیہ مہینوں میں چینی طیارہ بردار بحری جہازوں نے جنوبی جاپان کے قریب مشقیں کیں، جس پر ٹوکیو نے احتجاج کیا۔ جاپان کا کہنا ہے کہ چینی طیاروں نے جاپانی طیاروں پر ریڈار لاک کیا، جسے ممکنہ میزائل نشانے کی تیاری سمجھا گیا۔

لازمی پڑھیں: اڑان پاکستان وژن کے تحت ای پاکستان حکمتِ عملی تشکیل، ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانا ہے: احسن اقبال

جاپان نے چین کی بڑھتی عسکری سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک نیا دفتر قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جاپان اپنی دفاعی صنعت کو بحال کرنے کے لیے برطانیہ اور اٹلی کے ساتھ مشترکہ طور پر اگلی نسل کے لڑاکا طیارے کی تیاری پر 160 ارب ین سے زائد خرچ کرے گا، جب کہ مصنوعی ذہانت سے لیس ڈرونز پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔

نئے بجٹ میں دفاعی صنعت اور اسلحہ برآمدات کے فروغ کے لیے بھی اضافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جو جاپان کی بدلتی ہوئی دفاعی حکمت عملی کا واضح اشارہ ہیں۔