نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ان کے اور اطالوی وزیراعظم کے تعلقات میں تناؤ ضرور پیدا ہوا، تاہم وہ اب بھی میلونی کے بارے میں مثبت رائے رکھتے ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ ان کی ناراضی کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اٹلی نے آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی مؤقف کی حمایت نہیں کی اور نہ ہی اس معاملے میں واشنگٹن کے ساتھ کھڑا ہوا، اس فیصلے پر مایوسی ہوئی، لیکن اس کے باوجود وہ جارجیا میلونی کو ایک اچھی شخصیت تصور کرتے ہیں، البتہ ان کے خیال میں اٹلی نے اس معاملے میں درست فیصلہ نہیں کیا۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ ماہ دونوں رہنماؤں کے درمیان بیانات کی جنگ نے عالمی میڈیا کی توجہ حاصل کی تھی۔ اس دوران ٹرمپ نے ایک اطالوی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جی 7 سربراہی اجلاس میں جارجیا میلونی نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کی خواہش ظاہر کی تھی اور انہوں نے محض خیرسگالی کے جذبے کے تحت اس کی اجازت دی۔

اٹلی کی وزیراعظم نے امریکی صدر کے اس دعوے کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی قرار دیا تھا، ایسی کوئی صورتحال پیش نہیں آئی اور اس قسم کے بیانات حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔

بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک ترمیم شدہ تصویر شیئر کی، جس میں جارجیا میلونی کو ان کی جانب عقیدت سے دیکھتے ہوئے دکھایا گیا تھا، جبکہ تصویر کے ساتھ ایک طنزیہ جملہ بھی تحریر کیا گیا تھا۔ اس پوسٹ نے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی تھی۔

تاہم تازہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ کا لہجہ پہلے کے مقابلے میں خاصا نرم دکھائی دیا۔ انہوں نے اگرچہ میلونی کے لیے مثبت الفاظ استعمال کیے، لیکن یورپی اتحادیوں پر تنقید بھی جاری رکھی۔ امریکی صدر کا کہنا تھا کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ کئی یورپی ممالک نے ایران سے متعلق امریکی اور اسرائیلی پالیسیوں، بالخصوص آبنائے ہرمز کے معاملے میں بھرپور تعاون نہیں کیا۔

مزید پڑھیں: ترکی امریکا کا بہترین اور مضبوط اتحادی، گرین لینڈ کو ڈنمارک کے بجائے امریکا کے کنٹرول میں ہونا چاہیے؛ ٹرمپ

ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو کے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ دفاعی اخراجات میں مزید اضافہ کریں تاکہ اتحاد کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹا جا سکے، امریکا اپنے اتحادیوں سے مساوی ذمہ داری کی توقع رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ  ٹرمپ کے حالیہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن اور روم کے درمیان سفارتی کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ایران، یورپی سلامتی اور دفاعی پالیسی جیسے معاملات پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور موجود ہیں۔ نیٹو اجلاس کے دوران ہونے والی ملاقاتیں اور آئندہ سفارتی رابطے ان تعلقات کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔