اسرائیلی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ جاری مذاکرات اور سفارتی کوششوں کے نتائج سے قطع نظر اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

نیتن یاہو نے کہا کہ میں ایک بار پھر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو، جب تک میں وزیراعظم ہوں، ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے غزہ سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امن منصوبے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اس وقت تک اپنی فوج واپس نہیں بلائے گا جب تک حماس کو ’حقیقی طور پر غیر مسلح‘ نہیں کر دیا جاتا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل 15 نکاتی دستاویز کو مسترد کرتا ہے اور اسرائیلی فوج اس وقت تک پیچھے نہیں ہٹے گی جب تک حماس کو حقیقی طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا۔ ان کے مطابق اسرائیل اپنی افواج اور شہریوں کو لاحق خطرات کا مقابلہ جاری رکھے گا۔

جون میں طے پانے والے معاہدے کے تحت لبنانی حکومت نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، جب کہ اسرائیل کو جنوبی لبنان کے ان علاقوں سے جہاں اس کا کنٹرول ہے، مرحلہ وار اپنی فوج واپس بلانی ہے۔

لبنان اور اسرائیل کے درمیان جمعرات کو روم میں براہِ راست مذاکرات کا ساتواں دور بھی مکمل ہوا۔

تاہم حزب اللہ اس معاہدے کی مخالفت کرتی ہے اور اسے لبنان کے آئینی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار حکومت کے حوالے نہیں کرے گی۔