سوئس حکومت نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ وہ تحریری طور پر اپنا مؤقف دوبارہ پیش کرے گی اور اس بات پر زور دے گی کہ سپلائی چینز کی نگرانی اور ضابطہ کاری سے متعلق اس کا طریقۂ کار مؤثر اور بین الاقوامی معیار کے مطابق ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن سوئٹزرلینڈ پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے پر غور کر رہا ہے۔

سوئس حکومت، جسے فیڈرل کونسل کہا جاتا ہے، نے اپنے بیان میں کہا کہ تحقیقات کے دوران عائد کیے گئے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں۔ حکومت کے مطابق سوئٹزرلینڈ کا نظام ضابطہ سازی، نجی شعبے کے لیے لازمی خطرات کے جائزے اور بین الاقوامی تعاون پر مشتمل ہے، جو جبری مشقت سے متعلق خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔

امریکی حکام نے 2 جون کو اپنی تحقیقات کے نتائج جاری کیے تھے۔ یہ تحقیقات مارچ میں مبینہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں، صنعتی پیداواری گنجائش اور جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کے خلاف اقدامات کے حوالے سے سیکشن 301 کے تحت شروع کی گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ اضافی ٹیرف فوری طور پر نافذ نہیں ہوں گے۔ اس سے قبل متعلقہ فریقین کو اپنے تبصرے جمع کرانے اور عوامی سماعت میں شرکت کا موقع دیا جائے گا۔

سوئس حکومت کا کہنا ہے کہ اگر نئے امریکی محصولات نافذ کیے جاتے ہیں تو ان کے موجودہ 10 فیصد اضافی ٹیرف کی جگہ لینے کا امکان ہے، جو 24 جولائی تک مؤثر ہیں۔ حکومت نے یہ بھی کہا کہ امریکی تحقیقات کے نتیجے میں صنعتی اضافی گنجائش سے متعلق مزید محصولات بھی عائد کیے جا سکتے ہیں۔