ترجمان کے مطابق امریکی وفد میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہوں گے، جو ہفتے کی صبح اسلام آباد میں مذاکرات کریں گے۔

کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ ایران نے جنگ بندی کی پیشکش کی اور بالآخر اس پر اتفاق کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے پر بھی آمادگی ظاہر کی، تاہم اس کا ابتدائی منصوبہ ناقابلِ قبول تھا جسے مسترد کر دیا گیا، بعد ازاں ایران نے قابلِ قبول تجاویز پیش کیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی سرخ لکیریں تبدیل نہیں ہوئیں اور انہیں توقع ہے کہ آبنائے ہرمز کھولی جائے گی، جب کہ مذاکرات کا پہلا دور ہفتے کو ہوگا۔

ترجمان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ نے منگل کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی گفتگو کی، اور یہ کہ لبنان اس جنگ بندی کا حصہ نہیں ہے، تاہم اس حوالے سے دیگر فریقین کے ساتھ رابطے جاری رہیں گے۔

اس سے قبل وزیرِ اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں ایرانی صدر نے جنگ بندی کے لیے اقدامات پر پاکستانی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ایرانی صدر نے آگاہ کیا کہ ایران کا وفد بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے گا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق جامع مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے، جن میں ایران کی جانب سے محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی، جب کہ امریکا کی جانب سے جے ڈی وینس اور اسٹیو وٹکوف شریک ہوں گے۔