ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے ایران میں امریکی زمینی فوج بھیجنے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر نے ایران کے ساتھ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے امریکا میں مہم پر بھاری رقم خرچ کی۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی اثرورسوخ کی ایسی مہمات کے باوجود وہ امریکی مفادات کو اولین ترجیح دیں گے۔

امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران کے ساتھ تنازع کا مستقل حل فوجی کارروائی نہیں بلکہ مذاکرات اور سفارتی معاہدہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے زمینی فوج نہیں بھیجے گا اور اگر ایرانی عوام اپنے نظام میں تبدیلی چاہتے ہیں تو یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیل امریکا میں عوامی رائے کی جنگ ہار رہا ہے، یہ ایک سادہ اور واضح حقیقت ہے: امریکی نائب صدر

جے ڈی وینس کے مطابق امریکا کی ترجیح آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنا اور عالمی سطح پر تیل و گیس کی بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔