صدر ٹرمپ نے امریکی جریدے  دی نیویارک پوسٹ  کو بتایا کہ نائب صدر جے ڈی وینس، سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پر مشتمل امریکی وفد ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہو گیا ہے اور توقع ہے کہ وہ اگلے چند گھنٹوں میں اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اسلام آباد کے وقت کے مطابق آج رات وہاں پہنچ جائیں گے۔

مذاکرات کے حوالے سے پائے جانے والے شکوک و شبہات دور کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے مذاکرات ہونے جا رہے ہیں، لہٰذا میں اس وقت فرض کروں گا کہ کوئی بھی (سیاسی) کھیل نہیں کھیل رہا۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ اگر کوئی پیش رفت ہوتی ہے تو وہ سینئر ایرانی رہنماؤں سے ملاقات کے لیے تیار ہیں مجھے ان سے ملنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی قیادت ملاقات کرنا چاہتی ہے تو ہمارے پاس کچھ بہت قابل لوگ موجود ہیں، لیکن مجھے ان سے ذاتی طور پر ملنے میں بھی کوئی عار نہیں۔

اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ٹروتھ سوشل  پر جاری ایک پیغام میں امریکی صدر نے واضح کیا کہ اسرائیل نے انہیں ایران کے خلاف جنگ کے لیے راغب نہیں کیا، بلکہ 7 اکتوبر 2023 کے واقعے نے ان کے اس دیرینہ موقف کو مزید تقویت بخشی ہے کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایران کی نئی قیادت عقلمند ہے تو ملک کا مستقبل خوشحال اور عظیم ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل امریکی صدر نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات میں کوئی مثبت پیش رفت ہوتی ہے، تو وہ خود بھی ایرانی قیادت سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔