دہلی کے مضافات میں واقع ایک نجی اسپتال کے ایک کمرے میں، جہاں ایک مریض نس کے ذریعے سیال (IV) حاصل کر رہا تھا اور ماہر ڈاکٹر اس کی مسلسل نگرانی کر رہے تھے، 59 سالہ انجینئر نے اس ہفتے قلم اٹھایا اور بھارت کے دو سینئر وفاقی وزراء کے نام ایک خط تحریر کیا۔

یہ اس کی بھوک ہڑتال کا چوبیسواں دن تھا۔سونم وانگچک نے نہ تو مالی مدد مانگی، نہ معافی طلب کی اور نہ ہی وہ مطالبہ دہرایا جس کے لیے ان کے حامی گزشتہ پانچ ہفتوں سے احتجاج کر رہے تھے، یعنی بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ، اس کے بجائے انہوں نے ایک نسبتاً چھوٹی، مگر نہایت معنی خیز درخواست کی۔انہوں نے کہا کہ چار روز قبل پارلیمنٹ کی جانب مارچ کرنے والے طلبہ کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ کی جائے اور منتخب نمائندے اس بات کو تسلیم کریں کہ ان نوجوانوں کے ساتھ سڑکوں پر کیا ہوا۔

یہ خط نہ تو بھارت کے امتحانی نظام کا مستقبل طے کرے گا اور نہ ہی یہ فیصلہ کرے گا کہ دھرمیندر پردھان اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے یا نہیں۔لیکن یہ ایک ایسے سوال کی نمائندگی ضرور کرتا ہے جو صرف ایک وزارت یا ایک احتجاج تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کی جمہوریتوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے، آخر اس وقت کیا ہوتا ہے جب ایک ایسی نسل، جسے ہمیشہ یہ یقین دلایا گیا ہو کہ امتحانات، عدالتیں، پولیس اور پارلیمان جیسے ادارے انصاف فراہم کریں گے، اجتماعی طور پر یہ محسوس کرنے لگے کہ یہی ادارے انہیں ناکام کر چکے ہیں؟

ایسا صرف بھارت میں نہیں ہو رہا

بھارت اس صورتِ حال میں تنہا نہیں۔گزشتہ دو برسوں کے دوران نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی تحریکوں نے بنگلہ دیش میں ایک وزیرِ اعظم کو اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا، کینیا میں ایک متنازع مالیاتی بل واپس لینے پر حکومت کو آمادہ کیا، جبکہ نیپال میں بڑے پیمانے پر عوامی بے چینی کو جنم دیا، ہر ملک میں احتجاج کی فوری وجہ مختلف تھی، مگر قریب سے دیکھنے پر ایک مشترکہ حقیقت سامنے آتی ہے۔یہ تحریکیں دراصل حکومتوں کے وعدوں اور نوجوانوں کے عملی تجربات کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کا اظہار تھیں۔کہیں امتحانات تنازع بنے، کہیں ٹیکس، کہیں روزگار اور کہیں بدعنوانی۔

لیکن تقریباً ہر جگہ نوجوانوں کا بنیادی سوال ایک ہی تھا،  کیا ریاست ان کے مستقبل کے ساتھ انصاف کر رہی ہے؟

جنتر منتر کے احتجاجی مقام سے لے کر گروگرام کے اسپتال کے کمرے تک پیش آنے والے حالیہ واقعات بھی اسی وسیع تر رجحان کا حصہ دکھائی دیتے ہیں، اس لیے نہیں کہ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال حکومت گرا دے گی، کیونکہ اس کا امکان کم نظر آتا ہے، بلکہ اس لیے کہ یہ واقعہ دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک امتحانی بے ضابطگی کا معاملہ دیکھتے ہی دیکھتے اس سوال میں بدل سکتا ہے کہ کیا ایک جمہوری ریاست اب بھی اپنے شہریوں کی بات سننے کے لیے تیار ہے؟

بھوک ہڑتال کرنے والا شخص کون ہے؟

سونم وانگچک نوجوانوں کی اس تحریک کے لیے ایک غیر متوقع رہنما ہیں۔وہ لداخ کے ایک ایسے دور افتادہ گاؤں میں پیدا ہوئے جہاں نو برس کی عمر تک انہیں باقاعدہ اسکول کی تعلیم بھی میسر نہ تھی۔بعدازاں وہ بھارت کے معروف تعلیمی ماہرین اور سماجی شخصیات میں شمار ہونے لگے۔

انہوں نے 1980 کی دہائی کے آخر میں متبادل تعلیمی ادارے SECMOL کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد روایتی نظامِ تعلیم سے ہٹ کر طلبہ کی عملی صلاحیتوں کو فروغ دینا تھا۔انہوں نے  آئس اسٹوپا   جیسی منفرد ایجاد بھی متعارف کرائی، جس کے ذریعے سردیوں میں پانی کو برف کی مصنوعی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے تاکہ گرمیوں میں خشک پہاڑی علاقوں کے کسانوں کو آبپاشی کے لیے پانی دستیاب ہو سکے۔

تاہم ان کی سب سے زیادہ شہرت اس وقت ہوئی جب 2009 میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ فلم  تھری ایڈیٹس  میں عامر خان کے ادا کردہ کردار کی تخلیق کے لیے ان کی شخصیت سے متاثر ہونے کا اعتراف کیا گیا۔یہ فلم جنوبی ایشیا میں کروڑوں افراد نے دیکھی اور وانگچک کو ماہر برائے تعلیم اور سماجی شخصیت کے طور پر جانا گیا ، لیکن 2019 میں حالات بدل گئے۔

اسی برس بھارتی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی اور لداخ کو ایک الگ وفاقی علاقہ (یونین ٹیریٹری) بنا دیا، مگر اسے اپنی قانون ساز اسمبلی نہیں دی گئی۔وانگچک اس فیصلے کے بعد لداخ کے لیے مکمل ریاستی درجہ اور آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت خصوصی آئینی تحفظات کے سب سے نمایاں حامی بن کر سامنے آئے۔ان کا مؤقف تھا کہ اگر ایسے تحفظات فراہم نہ کیے گئے تو لداخ کے نازک ماحولیاتی نظام، قدرتی وسائل، زمین اور مقامی ثقافت کو بڑے پیمانے پر معدنیات کی کان کنی اور ترقیاتی منصوبوں سے شدید خطرات لاحق ہو جائیں گے۔یہ پہلا موقع نہیں جب انہوں نے اپنے مطالبات کے حق میں بھوک ہڑتال کی ہو۔

2024 میں انہوں نے شدید سرد موسم میں لداخ میں کئی ہفتوں تک بھوک ہڑتال کی، بعدازاں دہلی میں بھی یہی احتجاج دہرایا، جبکہ اسی دوران وہ اپنے حامیوں کے ہمراہ ایک ہزار کلومیٹر سے زیادہ پیدل چل کر لداخ سے دہلی بھی پہنچے۔ستمبر 2025 میں انہی مطالبات کے سلسلے میں لیہہ میں ہونے والے احتجاج پرتشدد ہو گئے، جن میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

اس واقعے کے دو روز بعد حکام نے وانگچک کو نیشنل سکیورٹی ایکٹ (NSA) کے تحت حراست میں لے لیا، جو حکومت کو بعض حالات میں بغیر مقدمہ چلائے طویل عرصے تک کسی شخص کو قید رکھنے کا اختیار دیتا ہے۔وہ تقریباً چھ ماہ تک اپنے آبائی علاقے سے ایک ہزار میل سے زیادہ دور جیل میں رہے۔بالآخر مارچ 2026 میں ان کی حراست ختم کر دی گئی، جبکہ اس دوران ان پر کوئی باضابطہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔

یہ پس منظر اس لیے اہم ہے کیونکہ جب وانگچک نے نیٹ (NEET) امتحانی تنازعے پر طلبہ کے احتجاج میں شمولیت اختیار کی تو وہ پہلے ہی ایک ایسے کارکن کے طور پر جانے جاتے تھے جسے حکومت کے بعض حلقے ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتے تھے، جبکہ ان کے حامی انہیں بھارت میں جمہوری احتجاج اور اختلافِ رائے کی آزادی کی ایک علامت تصور کرتے تھے۔

ایک امتحانی پرچے سے قومی بحران تک

موجودہ بحران کی جڑیں لداخ کی آئینی سیاست سے مختلف ضرور ہیں، لیکن اس کے مرکز میں بھی اتنا ہی جذباتی پہلو موجود ہے۔نیشنل ایلیجیبلیٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (NEET-UG) بھارت کا وہ قومی امتحان ہے جس کے ذریعے ہر سال لاکھوں طلبہ میڈیکل کالجوں میں داخلے کے لیے قسمت آزماتے ہیں۔ 2026 میں تقریباً 22 لاکھ امیدواروں نے یہ امتحان دیا۔ ان میں سے اکثر نوجوان برسوں کی محنت، کوچنگ سینٹروں پر لاکھوں روپے کے اخراجات اور اپنے خاندانوں کی توقعات کے ساتھ اس ایک امتحان میں شریک ہوئے تھے۔

بھارت میں میڈیکل کی نشستیں محدود ہیں، اس لیے ایک ہی امتحان اکثر کسی طالب علم کے پورے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے۔مئی 2026 میں صورتحال اس وقت بدل گئی جب امتحانی پرچہ لیک ہونے کے الزامات سامنے آئے۔شدید عوامی دباؤ کے بعد حکام نے امتحان منسوخ کر دیا اور چند ہفتوں بعد دوبارہ امتحان لینے کا اعلان کیا۔بھارتی میڈیا نے متعدد ایسے واقعات رپورٹ کیے جن میں والدین نے بتایا کہ امتحان کی منسوخی، دوبارہ امتحان کے اعلان، ذہنی دباؤ اور مستقبل کے خوف کے باعث ان کے بچوں نے خودکشی کر لی۔مختلف رپورٹس میں ایسے واقعات کی تعداد گیارہ سے تیرہ کے درمیان بتائی گئی ہے۔

اگرچہ سرکاری اداروں نے ہر واقعے میں ایک ہی وجہ کی باضابطہ تصدیق نہیں کی، تاہم ان اموات نے اس معاملے کو محض امتحانی بے ضابطگی سے نکال کر قومی غم اور عوامی غصے کا مسئلہ بنا دیا۔

اسی ماحول میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نامی نوجوانوں کی ایک تنظیم، جس کی قیادت ابھیجیت ڈپکے کر رہے تھے، نے 20 جون 2026 کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا شروع کیا۔مظاہرین کے مطالبات واضح تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی ہوں، امتحانی پرچہ لیک ہونے کے معاملے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں اور پورے امتحانی نظام میں بنیادی اصلاحات نافذ کی جائیں۔

احتجاج کرنے والے طلبہ کا مؤقف تھا کہ موجودہ نظام اب میرٹ پر مبنی مقابلے کے بجائے ایک ایسے ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا ہے جس پر عام نوجوانوں کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے۔28 جون کو سونم وانگچک بھی اس احتجاج میں شریک ہو گئے اور غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کر دی ، اگرچہ اس سے پہلے ان کا NEET تنازع سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن ان کی شمولیت نے احتجاج کو غیر معمولی اخلاقی اور سیاسی اہمیت عطا کر دی۔

مارچ اور کریک ڈاؤن

احتجاج میں فیصلہ کن موڑ 20 جولائی کو آیا۔اس روز ہزاروں مظاہرین نے جنتر منتر سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے کا اعلان کیا، جسے "چلو سنسد" یا "سنسد چلو مارچ" کا نام دیا گیا تھا۔دہلی پولیس نے پہلے ہی اس راستے پر دفعہ 163 (سابقہ دفعہ 144) کے تحت پابندی نافذ کر رکھی تھی اور مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔اس کے باوجود مظاہرین آگے بڑھنے لگے۔اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس نے پورے احتجاج کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے شیل فائر کیے اور بعض حساس علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ سروس بھی عارضی طور پر معطل کر دی۔پولیس کے مطابق احتجاج کے دوران 118 اہلکار زخمی ہوئے۔

دوسری جانب احتجاجی تنظیموں اور میڈیا رپورٹس کے مطابق سو سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے جبکہ ستر سے زیادہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے مجموعی طور پر چھ ایف آئی آرز بھی درج کیں۔اسی دوران اپوزیشن جماعت کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور پریانکا گاندھی بھی وزیرِ اعظم کی رہائش گاہ کے باہر ہونے والے ایک متعلقہ احتجاج میں شریک ہوئے، جہاں انہیں مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا۔

اسی کشیدگی کے دوران سونم وانگچک کی صحت تیزی سے بگڑنے لگی۔ان کی بھوک ہڑتال دو ہفتوں سے تجاوز کر چکی تھی۔ڈاکٹروں نے بتایا کہ ان کے خون میں شوگر اور پوٹاشیم کی سطح خطرناک حد تک گر رہی ہے اور ان کی جان کو سنگین خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے طبی رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد پہلے انہیں صفدر جنگ اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تاکہ ان کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔بعدازاں انہیں گروگرام کے میڈانتا اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں زیادہ جدید طبی سہولیات دستیاب تھیں۔

وانگچک نے ابتدا میں اسپتال منتقل ہونے پر اعتراض کیا۔ان کی اہلیہ، گیتانجلی آنگمو، نے عوامی طور پر مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے صرف طبی نگرانی کا حکم دیا تھا، زبردستی اسپتال میں داخل کرنے کا نہیں۔دوسری جانب حکومت اور دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ ان کی منتقلی صرف ان کی جان بچانے کے لیے کی گئی تھی اور اس میں ان کی جسمانی خودمختاری کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔یہ معاملہ ایک بار پھر اس دیرینہ قانونی بحث کو سامنے لے آیا کہ اگر کوئی شخص احتجاجاً بھوک ہڑتال کرے تو ریاست کی ذمہ داری کہاں تک جاتی ہے؟کیا حکومت کو کسی شخص کی جان بچانے کے لیے اس کی خواہش کے برخلاف مداخلت کرنی چاہیے، یا پھر ایک جمہوری معاشرے میں پرامن احتجاج کے حق کو ترجیح دینی چاہیے؟

بھارتی عدالتیں ماضی میں بھی عموماً یہی مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ حکومت احتجاج کرنے والے کی طبی نگرانی تو کرے، مگر بلا ضرورت زبردستی کھانا کھلانے یا اس کی مرضی کو مکمل طور پر نظرانداز کرنے سے گریز کرے۔سونم وانگچک کا معاملہ بھی اسی نازک قانونی اور اخلاقی توازن کی ایک نئی مثال بن کر سامنے آیا۔

خط، وزراء کی ملاقات اور حکومت کی پیشکش

22 جولائی کی رات، جب سونم وانگچک اپنی بھوک ہڑتال کے چوبیسویں دن اسپتال میں زیرِ علاج تھے، بھارت کے وفاقی وزیرِ صحت جے پی نڈا اور وزیرِ مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ ان سے ملاقات کے لیے گروگرام کے میڈانتا اسپتال پہنچے۔گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری احتجاج، پارلیمنٹ کی کارروائی، اپوزیشن کے دباؤ اور وانگچک کی مسلسل بگڑتی ہوئی صحت کے بعد حکومت کی جانب سے یہ پہلا واضح سیاسی رابطہ سمجھا جا رہا تھا۔

ملاقات کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے مطابق دونوں وزراء نے وانگچک کو یقین دلایا کہ حکومت احتجاج کرنے والے طلبہ کے خدشات سننے کے لیے تیار ہے، پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث کے امکان پر غور کیا جائے گا اور تعلیمی نظام میں اصلاحات سے متعلق تجاویز پر بھی توجہ دی جائے گی۔ساتھ ہی انہوں نے وانگچک سے اپیل کی کہ وہ طلبہ کو حکومت پر اعتماد رکھنے کا مشورہ دیں اور اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔

اسی ملاقات کے بعد وانگچک نے دونوں وزراء کے نام ایک مختصر مگر اہم خط تحریر کیا۔دلچسپ بات یہ تھی کہ اس خط میں انہوں نے وہ بنیادی مطالبہ دہرایا ہی نہیں جس نے اس احتجاج کو جنم دیا تھا، یعنی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ۔اس کے برعکس، انہوں نے وزراء کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ان کی عیادت کے لیے آئے اور احتجاج کرنے والے طلبہ کے مطالبات پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔

تاہم خط کے اختتام پر انہوں نے ایک واضح شرط بھی رکھی۔انہوں نے لکھا کہ وہ اس وقت تک اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت اس بات کی یقین دہانی نہ کرا دے کہ 20 جولائی کے "چلو سنسد" مارچ میں شریک طلبہ اور دیگر مظاہرین کے خلاف کوئی انتقامی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔پانچ ہفتے پہلے جس احتجاج کا آغاز امتحانی دھاندلی اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے سے ہوا تھا، اب اس کا مرکز ایک نئے سوال پر آ گیا تھا۔کیا حکومت اختلافِ رائے رکھنے والے شہریوں کو احتجاج کرنے کی سزا دے گی؟

دو حکومتیں، ایک جمہوریت

اس پورے بحران کے دوران حکومت کا مؤقف نسبتاً واضح رہا ہے۔وفاقی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے بارہا اس تاثر کو مسترد کیا کہ بھارت کا امتحانی نظام مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کا مجموعی نظام مضبوط ہے، اگر کہیں بے ضابطگیاں ہوئی بھی ہیں تو وہ محدود نوعیت کی ہیں اور ان کی تحقیقات جاری ہیں۔انہوں نے اپوزیشن جماعت کانگریس پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ طلبہ کے غم اور عوامی غصے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

دوسری طرف حکومت نے یہ بھی اشارہ دیا کہ وہ تعلیمی اصلاحات اور پارلیمنٹ میں بحث کے لیے آمادہ ہے، لیکن وزیرِ تعلیم کے استعفے کے مطالبے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔اپوزیشن نے اس معاملے کو مختلف زاویے سے پیش کیا۔کانگریس سمیت کئی جماعتوں نے پارلیمنٹ میں تحریکیں جمع کرائیں جن میں مطالبہ کیا گیا کہ وزیرِ تعلیم خود ایوان میں آ کر وضاحت پیش کریں اور اس پورے معاملے کی اخلاقی اور آئینی ذمہ داری قبول کریں۔اپوزیشن رہنماؤں نے صرف امتحانی بے ضابطگیوں پر ہی نہیں بلکہ 20 جولائی کو مظاہرین کے خلاف پولیس کی کارروائی پر بھی شدید تنقید کی۔ان کے مطابق اصل مسئلہ صرف ایک امتحان نہیں بلکہ جمہوری حقوق کا ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ اگر نوجوان شہری پرامن احتجاج بھی نہ کر سکیں، یا احتجاج کے بعد ان کے خلاف فوجداری مقدمات درج کر دیے جائیں، تو یہ جمہوری نظام کے لیے ایک تشویش ناک علامت ہے۔دوسری جانب قانونی ماہرین نے اس معاملے کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا ہے۔ان کے مطابق بھارتی عدالتیں ماضی میں بھی بھوک ہڑتال کرنے والے افراد کے معاملات میں ایک درمیانی راستہ اختیار کرتی رہی ہیں۔

وہ عام طور پر حکومت کو یہ ہدایت دیتی ہیں کہ احتجاج کرنے والے کی طبی نگرانی کی جائے تاکہ اس کی جان کو خطرہ نہ ہو، لیکن اس کی مرضی کے خلاف زبردستی کھانا کھلانے یا اس کے احتجاج کو مکمل طور پر ختم کرنے کا حکم دینے سے گریز کیا جاتا ہے۔دہلی ہائی کورٹ نے بھی وانگچک کے معاملے میں تقریباً یہی مؤقف اختیار کیا۔عدالت نے ان کی صحت کو محفوظ رکھنے کے لیے اسپتال منتقل کرنے کی اجازت دی، مگر انہیں زبردستی کھانا کھلانے یا ان کی بھوک ہڑتال ختم کرانے کا حکم نہیں دیا۔

 دنیا کو اس معاملے پر نظر کیوں رکھنی چاہیے؟

ممکن ہے کہ یہ بھوک ہڑتال، اپنے آپ میں، کوئی فیصلہ کن موڑ ثابت نہ ہو۔تاریخ بتاتی ہے کہ حکومتیں اس سے پہلے بھی طویل بھوک ہڑتالوں کا سامنا کر چکی ہیں، حتیٰ کہ سونم وانگچک خود بھی ماضی میں کئی مرتبہ ایسے احتجاج کر چکے ہیں۔ لیکن موجودہ بحران ایک ایسی حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے جو صرف بھارت تک محدود نہیں۔دنیا کی بہت سی جمہوریتیں اس وقت ایک جیسے سوالات سے دوچار ہیں۔کیا نوجوانوں کو یقین ہے کہ محنت اور میرٹ ہی کامیابی کا راستہ ہیں؟ کیا ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد پہلے جیسا باقی ہے؟ اور جب شہری منظم انداز میں، مسلسل اور پُرامن احتجاج کرتے ہیں تو کیا حکومتیں ان کی بات سننے کو ترجیح دیتی ہیں، یا پھر انتظامی پابندیوں، پولیس کارروائیوں اور فوجداری مقدمات کے ذریعے احتجاج کو محدود کرنے کی کوشش کرتی ہیں؟ بھارت کے لیے یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کیونکہ یہ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہر سال کروڑوں نوجوان اعلیٰ تعلیم اور سرکاری ملازمتوں کے لیے مسابقتی امتحانات دیتے ہیں۔یہ امتحانات صرف تعلیمی عمل کا حصہ نہیں بلکہ لاکھوں خاندانوں کے مستقبل، معاشی امیدوں اور سماجی ترقی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے اگر ایسے نظام پر عوام کا اعتماد کمزور پڑنے لگے تو اس کے اثرات صرف چند امتحانات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

اسی طرح بھارت خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پیش کرتا ہے، جہاں انتخابات، پارلیمنٹ اور فعال سول سوسائٹی کو قومی طاقت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار، صحافتی آزادی اور بعض حفاظتی قوانین کے استعمال پر سوالات بھی اٹھائے ہیں۔سونم وانگچک کا معاملہ انہی وسیع مباحث کا ایک حصہ بن چکا ہے۔

اب آگے کیا ہوگا؟

فوری طور پر اس بحران کا انحصار چند اہم فیصلوں پر ہے۔سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا حکومت واقعی اس یقین دہانی پر قائم رہتی ہے کہ 20 جولائی کے احتجاج میں شریک طلبہ اور دیگر مظاہرین کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں ہوگی۔دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ آیا پارلیمنٹ میں وہ باضابطہ بحث ہوتی ہے جس کا اشارہ حکومتی وزراء دے چکے ہیں۔اگر حکومت اپنے وعدوں پر عمل کرتی ہے تو امکان ہے کہ سونم وانگچک اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں، جیسا کہ وہ ماضی کے احتجاجی مراحل میں بھی کرتے رہے ہیں اور اسے کسی حتمی فتح کے بجائے ایک طویل جدوجہد کا ایک مرحلہ قرار دیں۔

لیکن اگر مظاہرین کے خلاف درج کی گئی ایف آئی آرز برقرار رہتی ہیں، یا حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹتی ہے، تو موجودہ تعطل مزید گہرا ہو سکتا ہے۔اس صورت میں وانگچک کی مسلسل خراب ہوتی ہوئی صحت اس سیاسی تنازع کو ایک انسانی بحران میں بھی تبدیل کر سکتی ہے۔طویل مدت میں ایک اور سوال بھی اہم ہوگا۔کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اب خود کو صرف ایک احتجاجی تحریک کے طور پر نہیں بلکہ ایک سیاسی جماعت کے طور پر منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو امتحانی شفافیت، نوجوانوں کے حقوق اور تعلیمی اصلاحات جیسے مسائل مستقبل کے انتخابات میں بھی اہم سیاسی موضوعات بن سکتے ہیں۔البتہ یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ آیا یہ تحریک مستقل سیاسی قوت میں تبدیل ہو پائے گی یا وقت گزرنے کے ساتھ دیگر احتجاجی تحریکوں کی طرح اپنی شدت کھو دے گی۔

ایک ایسا امتحان جو اس خط سے کہیں بڑا ہے

یہ ایک ایسی نسل کی کہانی ہے جس نے وہ سب کچھ کیا جو اسے کامیابی کے لیے بتایا گیا تھا۔اس نے برسوں محنت کی، امتحانات کی تیاری کی، اپنے مستقبل کے خواب دیکھے اور ریاستی اداروں پر اعتماد کیا۔لیکن جب بحران آیا تو انہی اداروں پر سوالات اٹھنے لگے۔

ممکن ہے سونم وانگچک کا یہ خط چند روز بعد سرکاری فائلوں کا حصہ بن جائے، پارلیمنٹ میں اس کا ذکر ہو اور پھر وقت کے ساتھ فراموش کر دیا جائے۔لیکن وہ سوال، جس کی طرف یہ خط اشارہ کرتا ہے، شاید اتنی آسانی سے ختم نہ ہو۔کیا ایک ایسا ملک، جس کی آبادی ڈیڑھ ارب کے قریب ہے اور جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، اپنے نوجوان شہریوں کی آواز اس وقت بھی سن سکتا ہے جب وہ صرف احتجاج کر رہے ہوں؟ یا پھر ان کی بات اس وقت سنی جاتی ہے جب وہ آنسو گیس، لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا سامنا کریں؟اور کیا ایک ایسا معاشرہ، جو اپنے ایک معروف مصلح اور اختراع کار کو اسپتال کے بستر پر بھوک سے نڈھال دیکھ رہا ہے، اس احتجاج کو صرف ایک سیاسی واقعہ سمجھے گا یا اسے اپنے جمہوری مستقبل کے لیے ایک بڑے امتحان کے طور پر دیکھے گا؟ ان سوالوں کے جواب صرف سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کا انجام طے نہیں کریں گے۔

یہ اس بات کا بھی تعین کریں گے کہ آنے والے برسوں میں بھارت کے نوجوان اپنے جمہوری اداروں پر کس حد تک اعتماد کر سکیں گے  اور آیا اختلافِ رائے کو جمہوریت کی طاقت سمجھا جائے گا یا اس کے لیے ایک چیلنج۔

سونم وانگچک کا خط بظاہر ایک صفحہ  پر مشتمل ایک پیغام ہے، مگر اس کے معنی  اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔

یہ صرف ایک شخص کی بھوک ہڑتال یا ایک امتحانی تنازع کی داستان نہیں، بلکہ ریاست، نوجوانوں، احتساب اور جمہوری آزادیوں کے درمیان بدلتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔شاید آنے والے دنوں میں یہ احتجاج ختم ہو جائے، پارلیمنٹ میں بحث بھی ہو جائے اور تعلیمی اصلاحات کا وعدہ بھی کر دیا جائے۔لیکن اس واقعے نے جو بنیادی سوالات اٹھائے ہیں، وہ بدستور باقی رہیں گے۔

ایک جمہوریت کی اصل طاقت صرف اس کے انتخابات میں نہیں ہوتی بلکہ اس صلاحیت میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے اختلاف کرنے والے شہریوں کو کس حد تک برداشت کرتی ہے، ان کی بات سنتی ہے اور ان کے اعتماد کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

اسی لیے، اسپتال کے ایک کمرے میں لکھا گیا یہ مختصر خط شاید آنے والے برسوں میں صرف ایک دستاویز نہ رہے، بلکہ اس دور کی ایک علامت بن جائے جب نوجوانوں اور ریاست کے درمیان اعتماد کا رشتہ ایک نئے امتحان سے گزر رہا تھا۔