لاکھوں حجاج کرام نے میدانِ عرفات میں خطبۂ حج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ سنا، جہاں دنیا بھر سے آئے مسلمان روحانی کیفیت میں عبادات، دعاؤں اور ذکر و اذکار میں مشغول رہے۔

امام عبدالرحمٰن الحذیفی نے خطبے میں کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو تقویٰ اختیار کرنے اور اپنے وعدوں کی پاسداری کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ توحید اسلام کی بنیاد ہے اور کسی کو بھی اللّٰہ کا شریک نہیں ٹھہرانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب اہلِ ایمان کے سامنے اللّٰہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو ان کے دل نرم ہو جاتے ہیں اور ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے۔ خطبے میں نبی کریم ﷺ کی ختمِ نبوت کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا کہ حضرت محمد ﷺ اللّٰہ کے آخری رسول اور خاتم النبیین ہیں، جن کی تعلیمات انسانیت کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔

امام مسجد نبوی ﷺ نے مسلمانوں کو مشکلات اور آزمائشوں میں صبر اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کے لیے عظیم اجر کا وعدہ فرمایا ہے، مسلمان ہمیشہ سچ بولیں، جھوٹ، بہتان، غیبت اور بدعت جیسے اعمال سے دور رہیں کیونکہ یہ معاشرے میں فساد اور انتشار پیدا کرتے ہیں۔

خطبۂ حج میں حجاج کرام کو امام عبدالرحمٰن الحذیفی نے خصوصی نصیحت کی کہ وہ دورانِ حج زیادہ سے زیادہ استغفار، دعا، ذکر اور عبادات میں مصروف رہیں، نماز قائم کرنا، اللّٰہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا اور انسانیت کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرنا ایمان والوں کی پہچان ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جن قوموں نے ظلم، ناشکری اور اللّٰہ کے احکامات سے روگردانی کی، ان سے نعمتیں چھین لی گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اللّٰہ اور بندے کے درمیان مضبوط تعلق ہی نجات اور کامیابی کا راستہ ہے۔

امام مسجد نبوی ﷺ نے حجاج کرام کو ہدایت کی کہ دورانِ حج ہر قسم کے جھگڑے، نفرت اور اختلاف سے اجتناب کریں اور ایسے کسی عمل سے بچیں جو امتِ مسلمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچائے،  تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے جنت کی خوشخبری ہے اور یومِ عرفہ دعاؤں کی قبولیت کا عظیم دن ہے۔

خطبے کے اختتام پر امام عبدالرحمٰن الحذیفی نے امتِ مسلمہ کے لیے خصوصی دعائیں بھی کیں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللّٰہ تعالیٰ مسلمانوں کے حالات بہتر فرمائے، امت کو اتحاد نصیب کرے، گناہوں کو معاف فرمائے اور پوری دنیا میں امن و سلامتی قائم کرے۔

خطبۂ حج کے بعد مسجدِ نمرہ میں نمازِ ظہر اور عصر ایک ساتھ ادا کی گئی جبکہ لاکھوں حجاج غروبِ آفتاب کے بعد مزدلفہ روانہ ہوں گے جہاں وہ رات کھلے آسمان تلے گزاریں گے۔

اس سال حج کے موقع پر شدید گرمی کے باوجود روحانی جوش و خروش دیدنی رہا اور دنیا بھر سے آئے فرزندانِ اسلام نے اتحاد، اخوت اور مساوات کی خوبصورت مثال قائم کی۔