ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے اتوار کو جنگ کے دوران تباہ ہونے والے ڈھانچوں کی بحالی سے متعلق اجلاس میں کہا کہ عوام کو ملک کے حالات اور پابندیوں کی سنگینی کو حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ مشکلات اور چیلنجز فطری ہیں، تاہم قومی یکجہتی اور عوامی تعاون کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
ایران کے شماریاتی مرکز کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق فارسی کیلنڈر کے پہلے مہینے فروردین میں مہنگائی کی سالانہ شرح 73.5 فیصد تک پہنچ گئی، جب کہ صرف ایک ماہ میں مہنگائی میں مزید پانچ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
دوسری جانب ایران کے مرکزی بینک نے اپنی رپورٹ میں سالانہ افراطِ زر کی شرح 67 فیصد اور ماہانہ اضافہ سات فیصد بتایا ہے۔ اگرچہ دونوں اداروں کے اعداد و شمار میں فرق ہے، تاہم ماہرین کے مطابق دونوں رپورٹس اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران اس وقت شدید معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔
تہران کی ایک شہری خاتون نے غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب وہ اشیاء بھی خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتیں جو صرف ایک ماہ قبل آسانی سے خرید لیتی تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق خوراک کی قیمتوں میں اضافہ عمومی مہنگائی سے کہیں زیادہ ہے۔ شماریاتی مرکز نے غذائی اشیاء کی مہنگائی کی شرح 115 فیصد بتائی ہے، جب کہ کئی بنیادی اشیاء کی قیمتیں گزشتہ برس کے مقابلے میں تین گنا تک بڑھ چکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گھی اور خوردنی تیل کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ٹھوس سبزیوں کے تیل کی قیمت میں 375 فیصد جبکہ مائع کوکنگ آئل میں 308 فیصد اضافہ ہوا۔ اسی طرح درآمدی چاول 209 فیصد، ایرانی چاول 173 فیصد اور چکن 191 فیصد مہنگا ہو چکا ہے۔
تہران میں جگر کباب کی ایک دکان پر کام کرنے والے نوجوان ماجد نے الجزیرہ کو بتایا کہ چند ماہ کے دوران کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں تین گنا تک بڑھ گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جگر کی قیمت دوگنی ہو چکی ہے اور سپلائرز کبھی قلت تو کبھی برآمدات کا جواز پیش کرتے ہیں، جبکہ مارکیٹ میں مؤثر نگرانی دکھائی نہیں دیتی۔
حکومت نے بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سبسڈی اور الیکٹرانک واؤچرز کی فراہمی شروع کر رکھی ہے، تاہم معاشی ماہرین کے مطابق یہ اقدامات موجودہ بحران کے مقابلے میں ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
ایرانی ریال کی قدر میں بھی مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔ تہران کی اوپن مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 17 لاکھ 70 ہزار ریال تک پہنچ گئی ہے، جب کہ ایک سال قبل یہی شرح تقریباً 8 لاکھ 30 ہزار ریال تھی۔
صدر مسعود پیزشکیان اور مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی نے مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے موجودہ جنگی حالات کو معاشی بحران کی ایک بڑی وجہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب ایران کی سخت گیر پارلیمنٹ کے بعض ارکان اور سرکاری میڈیا سے وابستہ شخصیات نے قیمتوں میں اضافے کو معاشی جنگ اور دشمن کی سازش قرار دیا ہے۔
ادھر ایران میں طویل انٹرنیٹ بندش نے بھی کاروباری سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ انٹرنیٹ پر مبنی کاروباری تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حالات میں ملک کا اسٹارٹ اپ نظام تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔






