خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ایران سے اسرائیل کی جانب داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں خطرے کے سائرن بجا دیے گئے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق ابتدائی حملے کے کچھ ہی دیر بعد ایران نے میزائلوں کی ایک اور لہر بھی داغی، جس کے بعد فضائی دفاعی نظام کو متحرک کر دیا گیا۔

فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب مزید میزائل فائر کیے گئے ہیں اور فضائی دفاعی نظام ان خطرات کی نشاندہی اور انہیں ناکام بنانے کے لیے کارروائی کر رہا ہے۔

دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ لبنان پر اپنے حملے فوری طور پر بند کرے۔

پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان کے مطابق اگر اسرائیل نے حملوں کا دائرہ مزید وسیع کیا یا ایرانی کارروائیوں کا جواب دیا تو اسے ’’مزید تباہ کن اور پشیمان کن ضربوں‘‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی فوجی قیادت نے کہا کہ اس سے قبل بھی خبردار کیا گیا تھا کہ اگر بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ میں حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو مقبوضہ علاقوں میں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ادھر اسرائیلی فوج کے ہوم فرنٹ کمانڈ نے سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر پیر کو ملک بھر کے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

کمانڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد پورے ملک کو محدود سرگرمیوں کی سطح پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کسی بھی قسم کی تعلیمی سرگرمی کی اجازت نہیں ہوگی۔

حالیہ میزائل حملوں اور جوابی دھمکیوں کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔