اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفترنے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنگ بندی کو پانچ دن گزرنے کے باوجود اسرائیلی افواج نے اُن علاقوں میں کارروائیاں جاری رکھی ہیں، جہاں وہ تعینات ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ 10 اکتوبر سے اب تک کم از کم 15 فلسطینیوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔
[1\3]#Gaza: Clashes have intensified between Hamas and affiliated armed groups and rival groups and families, with reports of extrajudicial executions.
— UN Human Rights Palestine (@OHCHR_Palestine) October 15, 2025
Ø Restoring public order is an urgent priority, but it must comply with international law’s strict limits on the use of lethal…
دفتر کے سربراہ اجیت سنگھے نے کہا کہ جنگ میں حصہ نہ لینے والے شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی صورت میں جنگی جرم ہے، چاہے واقعہ کسی بھی علاقے میں پیش آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ نہایت ضروری ہے کہ یہ جنگ بندی پائیدار امن اور فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کے مکمل احترام کی طرف ایک عملی قدم ثابت ہو۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریش کے ترجمان سٹیفن دوجارک نے بتایا کہ تنظیم کو اس ہفتے غزہ میں امداد پہنچانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
نیویارک میں میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ اقوامِ متحدہ اس وقت اسرائیلی سرکاری ایجنسی COGAT کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ مزید امدادی سامان مختلف کراسنگ پوائنٹس سے غزہ میں داخل کیا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ میدانِ عمل میں اب بھی کافی الجھن باقی ہے، مگر امید ہے کہ تمام فریقین جنگ بندی کے اس مثبت مرحلے کو برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ جذبے کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔







