برطانوی خبرایجنسی نے سینئر ایرانی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے امریکی تجاویز ایران کے حوالے کردی ہیں۔

خبر ایجنسی کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع نے امریکی تجاویزکی تفصیلات نہیں بتائیں، ذرائع کےمطابق ایران اور امریکاکے درمیان ممکنہ مذاکرات کے مقام کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے، ترکیےاورپاکستان دونوں مذاکرات کے ممکنہ میزبان کےطورپر زیر غور ہیں۔

غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہم نے وہ 15 نکاتی منصوبہ نہیں دیکھا جس کے بارے میں صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کو بھیجا گیا ہے۔ اس کے مندرجات کی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی، تاہم اسرائیلی اور امریکی میڈیا میں کچھ تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ جن کے مطابق اسرائیل کے چینل 12 کے مطابق منصوبے میں درج ذیل مطالبات شامل ہیں۔ نطنز، اصفہان اور فردو میں جوہری تنصیبات کو غیر فعال کر کے ختم کیا جائے گا۔

ایران کی سرگرمیوں پر بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی شفاف نگرانی اور جائزہ ہوگا، ایران خطے میں مسلح پراکسیز کا استعمال ترک کرے گا اور علاقائی گروہوں کو فنڈنگ اور اسلحہ فراہم کرنا بند کرے گا۔

پہلے سے جمع شدہ جوہری صلاحیتوں کو ختم کیا جائے گا، جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد کیا جائے گا، ایرانی سرزمین پر یورینیم کی افزودگی نہیں کی جائے گی اور تمام افزودہ مواد بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے حوالے کیا جائے گا۔

آبنائے ہرمز پرکسی بھی قسم کی پابندی نہیں ہوگی اور اسے ’آزاد بحری زون‘ قرار دیا جائے گا، ایران کے میزائلوں سے متعلق فیصلہ بعد میں کیا جائے گا، تاہم ان کی تعداد اور حد مقرر کی جائے گی اور انھیں صرف دفاعی مقاصد تک محدود رکھا جائے گا۔

مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو کیا ملے گا؟ بوشہر میں بجلی کی پیداوار کے لیے سویلین جوہری منصوبے کی ترقی میں امریکی مدد دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کا امریکی صدر کے بیان پر جواب: ’اپنی شکست کو معاہدہ نہ کہیں۔‘

ایران پر تمام پابندیوں کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ ایران پرپابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے خطرے کا خاتمہ کردیا جائے گا۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مذاکرات کے دوران ممکنہ طور پر ایک ماہ کی جنگ بندی ہو سکتی ہے تاہم اس کی بھی کوئی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی اور وائٹ ہاؤس کی جانب سے کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔