ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں ایک وارننگ دیتا ہوں، ہم آج رات ایران پر سخت حملہ کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایران کی حالیہ کارروائیوں سے خوش نہیں ہیں اور تہران نے گزشتہ روز تجارتی جہازوں پر ڈرون حملے کیے، جس کے بعد امریکا نے گزشتہ رات ایران پر سخت حملہ کیا، جب کہ مزید کارروائی بھی زیر غور ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد ایران کو غیر جوہری بنانا ہے۔ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ ہو بھی جائے تو مجھے یقین نہیں کہ وہ اس پر قائم رہے گا، کیونکہ میرے تجربے میں ایرانی قیادت قابلِ اعتماد نہیں۔
امریکی صدر نے ایرانی مذاکراتی ٹیم پر بھی الزام عائد کیا کہ اس نے بند کمرے میں ہونے والے مذاکرات کے دوران جھوٹ بولا اور امریکا کو دھوکا دینے کی کوشش کی۔
After announcing the end of the agreement with Iran, Trump says they attacked Khark Island yesterday and could eventually take control of it. pic.twitter.com/NzbsrPtIHh
— China pulse 🇨🇳 (@Eng_china5) July 8, 2026
انہوں نے کہا کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ ایران کے ساتھ کوئی نیا معاہدہ ہو پائے گا یا نہیں، تاہم اگر معاہدہ نہ بھی ہوا تو امریکا اپنے مقاصد حاصل کرے گا۔ ہم معاہدے کے بغیر بھی ایران کو غیر جوہری بنا سکتے ہیں اور شاید یہ زیادہ آسان ہوگا۔
ٹرمپ نے حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار بھی ایران کو قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران ایک ہفتے کی مہلت مانگی تھی، جس پر امریکا نے رضامندی ظاہر کی، لیکن اس کے باوجود ایران نے دوبارہ میزائل حملے شروع کر دیے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانیوں نے کہا تھا کہ ہمیں رسومات کے لیے وقت چاہیے، ہم نے انہیں مہلت دی، لیکن پھر انہوں نے میزائل داغنے شروع کر دیے۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوئے اور کہا کہ ایران نے اس دوران یہ درخواست بھی کی تھی کہ ان کی قیادت کو نشانہ نہ بنایا جائے، جسے امریکا نے عارضی طور پر قبول کیا۔
اپنی گفتگو میں امریکی صدر نے سابق صدر براک اوباما کی ایران پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اوباما کا جوہری معاہدہ 'بدترین معاہدہ' تھا۔ ایران کئی دہائیوں سے خطے میں دہشت، تشدد اور دھمکیوں کی سیاست کرتا آیا ہے اور امریکا اسے دوبارہ جوہری طاقت بننے کی اجازت نہیں دے گا۔







