رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 17 اپریل کو ایک سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا کہ اسرائیل کو مستقبل میں لبنان پر حملوں سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جسے مبصرین نے ایران کے ساتھ ممکنہ سفارتی معاہدے کے ابتدائی مرحلے کے طور پر دیکھا تھا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو نے ہفتے کے آخر میں لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو سے الگ الگ رابطے کیے۔

گفتگو میں جنگ بندی کے لیے ایک مرحلہ وار طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا، جس کے تحت حزب اللہ اسرائیل پر حملے بند کرے گی، جب کہ اس کے بدلے میں اسرائیل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقوں میں اپنی کارروائیاں مزید نہیں بڑھائے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے پس منظر میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ لبنانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری ہیں۔ بیری کا ردعمل  غیر واضح اور مایوس کن  تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل حزب اللہ کی جانب سے جاری حملوں کو مسلسل برداشت نہیں کر سکتا، اسی لیے واشنگٹن موجودہ کشیدگی کی بنیادی وجہ حزب اللہ کی کارروائیوں کو قرار دے رہا ہے۔

امریکی مؤقف کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ بیروت پر حملے بند کرے، تاہم واشنگٹن کا خیال ہے کہ موجودہ بحران کی جڑ حزب اللہ ہے، جب کہ امریکا حزب اللہ کو ایران کے زیرِ اثر تنظیم قرار دیتا ہے۔