پریس بریفنگ کے دوران جنرل ڈین کین نے اپنے خطاب کا آغاز جنگ کے دوران ہلاک ہونے والے امریکا کے 13 فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ان میں سے ہر ایک کے شکر گزار ہیں اور ان کے نقصان پر سوگ مناتے رہیں گے۔
جنرل کین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طے کردہ فوجی اہداف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں ایران کی بیلسٹک میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو تباہ کرنا، اس کی بحریہ کو غیر مؤثر بنانا اور دفاعی صنعتی ڈھانچے کو نشانہ بنانا شامل تھا۔ ان کے مطابق 38 دنوں پر محیط کارروائی کے دوران امریکی مشترکہ افواج نے یہ تمام اہداف حاصل کر لیے۔
انہوں نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا، تاہم اس بات پر زور دیا کہ جنگ بندی محض ایک وقتی وقفہ ہوتی ہے۔
LIVE: @SecWar, Chairman Caine hold a press briefing on Operation Epic Fury. https://t.co/R5DgIyVBv6
— Department of War 🇺🇸 (@DeptofWar) April 8, 2026
جنرل کین نے مزید کہا کہ امریکی افواج کو اگر حکم دیا گیا یا ضرورت پیش آئی تو وہ دوبارہ اسی رفتار اور درستگی کے ساتھ کارروائیاں شروع کرنے کے لیے تیار ہیں، جس کا مظاہرہ گزشتہ 38 دنوں کے دوران کیا گیا، تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایسا کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
اپنے خطاب میں انہوں نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں کی جانے والی ایک ریسکیو کارروائی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق مار گرائے گئے دو امریکی لڑاکا طیاروں کے پائلٹس کو بچانے کے لیے کی جانے والی یہ کارروائی آپریشن ایپک فیوری کے دوران امریکی فوج کی جرات اور بہادری کی ایک بڑی مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی داستان ہے جو بطور مشترکہ فوج ہماری شناخت کے دل اور روح تک پہنچتی ہے۔
جنرل ڈین کین کے مطابق مشترکہ افواج کی شاندار کارکردگی ایک دوسرے کے ساتھ ان کی گہری وابستگی کا نتیجہ تھی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس بات پر حیران نہیں تھے کہ فوجیوں نے اس آپریشن کے دوران غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔







