قطری نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جنرل مارک کِمٹ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالات ایک نازک موڑ پر ہیں، تاہم دونوں ممالک نہ صرف مذاکرات کے خواہاں ہیں بلکہ اس کی اشد ضرورت بھی محسوس کر رہے ہیں، پاکستان نے پسِ پردہ رہتے ہوئے کشیدگی کم کرنے اور جنگ بندی میں توسیع کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کی عسکری قیادت، بالخصوص فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے درمیان تعلقات ایسے نوعیت کے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی درخواست کو نظر انداز کرنا آسان نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن نے اس معاملے پر لچک کا مظاہرہ کیا۔
/p>General Kimmit on Al Jazeera. He says, “In view of the relationship Trump has with Field Marshal Munir, and when Pakistan is pushing for peace, Trump has hard-time saying no to his friend.” pic.twitter.com/ZCggxlVY3Z
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) April 22, 2026
جنرل کِمٹ کے مطابق امریکا ایران کی جانب سے ایک واضح، مربوط اور قابلِ عمل تجویز کا منتظر ہے تاکہ مذاکرات کے اگلے مرحلے کا آغاز کیا جا سکے اور یہ عندیہ دیا کہ آئندہ چند دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا دوسرا دور شروع ہونے کا قوی امکان موجود ہے، کیونکہ کسی بھی فریق کے مفاد میں کشیدگی کو دوبارہ جنگ میں تبدیل کرنا نہیں۔
ایران کی داخلی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہاں فیصلہ سازی کا نظام خاصا پیچیدہ ہے، جہاں مختلف طاقت کے مراکز موجود ہیں، جس کے باعث بعض اوقات یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ حتمی اختیار کس کے پاس ہے۔ تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی اور علاقائی سطح پر جاری سفارتی کوششیں کسی نہ کسی مثبت نتیجے تک ضرور پہنچیں گی۔
سابق امریکی جنرل نے خبردار کیا کہ اگرچہ موجودہ جنگ بندی وقتی طور پر برقرار رہ سکتی ہے، لیکن پائیدار امن کے لیے بنیادی تنازعات کا حل ناگزیر ہے، جس کے لیے سنجیدہ، مسلسل اور بامقصد مذاکرات کی ضرورت ہوگی۔







