عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے مشیر انور قرقاش نے کہا ہے کہ حالیہ جنگ کے بعد ایران کے ساتھ اعتماد کا فقدان اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
⚡️UAE President MbZ’s Advisor Anwar Gargash on Iran:
— The World Times (@worldtimes4u) April 24, 2026
You can’t be attacked with 2,800 missiles and drones then talk to me about trust.
That will take ages and ages. pic.twitter.com/jOs756ZU34
فرانس میں ورلڈ پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ جنگ میں متعدد حملوں کے باعث متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان اعتماد کی فضا بحال ہونے میں طویل وقت درکار ہوگا۔
انور قرقاش نے کہا کہ اگر کسی ملک پر 2,800 میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے جائیں تو ایسے میں اعتماد کی بحالی ممکن نہیں ہوتی۔ ان کے بقول، اعتماد کو شدید نقصان پہنچا ہے اور اسے فوری طور پر بحال نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے تقریباً 89 فیصد حملے شہری علاقوں، سویلین انفراسٹرکچر اور توانائی کے نظام کو نشانہ بنانے کے لیے تھے۔
مشیر اماراتی صدر کا کہنا تھا کہ ایران ان حملوں کے ذریعے خلیجی عرب ممالک کو یہ پیغام دے رہا تھا کہ وہ اس کی ترجیحات میں اہمیت نہیں رکھتے، اور اس سوچ کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہیں گے۔
Rebuilding trust between the #UAE and #Iran will take “ages and #ages” following the recent conflict, AFP reported, citing UAE Presidential advisor Anwar #Gargash.
— Gulf Times (@GulfTimes_QATAR) April 24, 2026
Speaking at the World Policy Conference in Chantilly, near Paris, Gargash said Iran’s strikes on US assets in the… pic.twitter.com/tzaGZxlLHj
انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے میں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے لیے، ایران کو ایک اسٹریٹجک خطرہ سمجھا جائے گا۔
یاد رہے کہ 28 فروری سے اسرائیل اور امریکا کی جانب سے شروع ہونے والی جنگ کے جواب میں ایران نے متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا تھا۔
متحدہ عرب امارات نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے خلاف قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا، جبکہ خلیجی ممالک نے بھی مشترکہ طور پر ان اقدامات کی مذمت کی اور انہیں خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
دوسری جانب ایران کا مؤقف تھا کہ پڑوسی ممالک امریکا کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں، اور یہ کہ وہ ہمسایہ ممالک میں صرف امریکی اہداف کو نشانہ بنائے گا۔







