امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق جنگ کے دوران اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان فوجی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون غیر معمولی سطح تک پہنچ گیا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکام کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اماراتی صدر محمد بن زاید النہیان سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد اسرائیلی فوج کو ہدایت دی کہ وہ فضائی دفاعی نظام کے ساتھ متعدد انٹرسیپٹر میزائل اور درجنوں فوجی اہلکار متحدہ عرب امارات بھیجے۔
Report Claims Israel Deployed Iron Dome Elements to UAE During Iran Conflict
— Washington Eye (@washington_EY) April 26, 2026
According to Axios, Israel reportedly assisted the UAE’s air defense efforts during the war by deploying Iron Dome systems and personnel to help counter Iranian missile and drone threats, a move… pic.twitter.com/iVQ6W3X4Rd
ایک سینئر اسرائیلی عہدیدار کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ اسرائیل نے اپنا یہ دفاعی نظام کسی دوسرے ملک کو فراہم کیا اور امریکا و اسرائیل کے بعد متحدہ عرب امارات پہلا ملک بنا جہاں یہ نظام استعمال کیا گیا۔
حکام کے مطابق اس فضائی دفاعی نظام نے درجنوں ایرانی میزائل حملوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا۔
امریکی ویب سائٹ نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی ایران میں نصب کم فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو نشانہ بنانے کے لیے متعدد حملے کیے، تاکہ وہ متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کو ہدف نہ بنا سکیں۔







