عرب نشریاتی ادارے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی حکام کے ایک ذرائع کا کہنا تھا کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں اور سعودی عرب کی پالیسی کی درست عکاسی نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ مملکت کی خارجہ پالیسی ہمیشہ خطے میں امن، استحکام اور تنازعات کے پُرامن حل کے فروغ پر مبنی رہی ہے۔
سعودی عرب اس سے قبل بھی ایران کی جانب سے ریاستوں کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی مسلسل خلاف ورزیوں کے ممکنہ سنگین نتائج سے خبردار کر چکا ہے۔ ریاض نے خلیجی ممالک اور اردن کے خلاف ایرانی جارحیت اور کھلی خلاف ورزیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔
سعودی حکومت نے برادر ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کے دفاعی اقدامات کی حمایت کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ ساتھ ہی خبردار کیا گیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کی پامالی کے نتائج انتہائی سنگین ہو سکتے ہیں۔
سعودی حکام کے مطابق مملکت کی خارجہ پالیسی امن کے فروغ اور خطے میں استحکام کے مواقع پیدا کرنے پر مرکوز ہے، جو کہ نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ان دعوؤں کے بالکل برعکس ہے جن میں جنگ کو طول دینے کا تاثر دیا گیا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کے تحت اپنی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا مکمل حق محفوظ رکھتا ہے۔
دوسری جانب تہران کی جانب سے ڈرون اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے مملکت کے مختلف حصوں پر حملوں کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس کے باوجود ریاض نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی حدود یا اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی یا کسی بھی جانب سے کیے جانے والے حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
سعودی ذرائع کے مطابق مملکت کا یہ مؤقف اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ خطے میں تنازعات کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے اور پائیدار امن و استحکام کو فروغ دیا جائے، جو کہ نیویارک ٹائمز کے الزامات کی نفی کرتا ہے۔






