ویٹی کن میں اپنے ہفتہ وار خطاب کے دوران پوپ لیو نے کہا کہ دنیا کو درپیش بڑے چیلنجز میں جنگیں، طاقت کا غلط استعمال اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم سرفہرست ہیں، ایسے اقدامات نہ صرف موجودہ نسل بلکہ آنے والی نسلوں کے حق پر بھی ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے اپنے خطاب میں چرنوبل ایٹمی حادثہ کی 40ویں برسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ آج بھی انسانیت کے لیے ایک سبق ہے۔ ان کے مطابق چرنوبل نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ جدید اور طاقتور ٹیکنالوجی اگر ذمہ داری کے بغیر استعمال کی جائے تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

پوپ لیو نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایٹمی توانائی ایک اہم ذریعہ ضرور ہے، لیکن اس کے استعمال میں انتہائی احتیاط، دانشمندی اور عالمی سطح پر مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فیصلے کرتے وقت صرف وقتی مفادات کے بجائے انسانیت کی طویل المدتی بھلائی کو مدنظر رکھیں۔

عیسائیوں کے روحانی پیشوا نے مزید کہا کہ آج کی دنیا میں “چور” صرف وہ نہیں جو مادی اشیاء چراتے ہیں، بلکہ وہ لوگ بھی اس زمرے میں آتے ہیں جو جنگوں کو ہوا دیتے ہیں، وسائل پر ناجائز قبضہ کرتے ہیں اور معاشروں میں بدامنی کو فروغ دیتے ہیں،یہ عناصر دراصل انسانوں سے ان کا محفوظ اور پُرامن مستقبل چھین رہے ہیں۔

پوپ نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ عالمی برادری ہوش مندی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرے گی جو امن، استحکام اور انسانی فلاح کے فروغ کا باعث بنیں، اور ایٹمی طاقت کو صرف مثبت مقاصد کے لیے بروئے کار لایا جائے گا۔

واضح رہے  چرنوبل کا ایٹمی حادثہ تاریخ کے بدترین سانحات میں شمار ہوتا ہے، جس کے اثرات دہائیوں بعد بھی ماحول اور انسانی صحت پر محسوس کیے جا رہے ہیں، اور یہ واقعہ آج بھی دنیا کے لیے ایک اہم تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔