غیر ملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق نیوز کانفرنس کرتے ہوئے صدر لی کا کہنا تھا کہ سابق صدر یون سک یول کے خلاف فردِ جرم عائد ہونے کے بعد مجھے محسوس ہوتا ہے کہ سرکاری سطح پر معذرت ضروری ہے۔

صدر لی نے کہا کہ مجھے لگتا ہے معافی مانگنی چاہیے، لیکن مجھے خدشہ ہے کہ اسے نظریاتی حملوں یا پرو-نارتھ ہونے کے الزامات کے طور پر نہ اچھالا جائے۔ مزید یہ کہ صدر لی نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پیونگ یانگ سے مذاکرات کی کوششیں بھی کیں۔

یاد رہے کہ شمالی کوریا نے الزام عائد کیا تھا کہ اکتوبر 2024 میں جنوبی کوریا نے تین مرتبہ ڈرونز کے ذریعے ان کے دارالحکومت پیونگ یانگ پر پمفلٹس گرائے۔ جنوبی کوریا کے میڈیا کے مطابق سابق حکومت کے دور میں فوج نے سرحد پار غباروں میں بھی پروپیگنڈا مواد بھیجا تھا۔

سابق صدر یون نے سیاسی دباؤ کم کرنے کی غرض سے مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کی، جس کے بعد عوام اور ارکانِ پارلیمنٹ سڑکوں پر آگئے۔ سپریم کورٹ نے اقدام کو غیر آئینی قرار دیا، یوں یون کو مواخذے کے بعد منصب سے ہٹا دیا گیا۔ وہ اس وقت بغاوت اور دیگر الزامات کے تحت مقدمے کا سامنا کرتے ہوئے جیل میں ہیں۔

خیال رہے کہ صدر لی جائے میونگ اپریل میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد شمالی کوریا سے تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کررہے ہیں۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے کئی اقدامات کیے، جن میں سرحدی علاقوں میں پروپیگنڈا لاؤڈ اسپیکرز ہٹانا بھی شامل ہے۔

لازمی پڑھیں: اگر یورپ جنگ چاہتا ہے تو روس جنگ کے لیے تیار ہے، پیوٹن

منگل کو جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے ایک نیا قانون منظور کیا جس کے تحت شہریوں کو شمالی کوریا کی جانب پمفلٹس بھیجنے کے لیے غبارے استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس کے باوجود شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے اب تک مذاکرات کی پیشکش کو نظر انداز کیا ہے۔

صدر لی نے عندیہ دیا کہ پیونگ یانگ کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے امریکا کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں میں عارضی کمی پر بھی غور کیا جاسکتا ہے، کیونکہ شمالی کوریا انہیں اشتعال انگیزی سمجھتا ہے۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو حقیقت پسند، معاملہ فہم اور ڈیل بنانے میں ماہر قرار دیتے ہوئے یہ امید بھی ظاہر کی کہ وہ شمالی کوریا کو مذاکرات پر آمادہ کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔