سیئول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ نے جمعے کو سنائے گئے فیصلے میں یون سک یول کو دشمن کی معاونت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کا مجرم قرار دیا، عدالت کے مطابق سابق صدر اکتوبر 2024 میں شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ کے اوپر فوجی ڈرونز بھیجنے کے منصوبے میں ابتدا ہی سے شریک تھے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ڈرون کارروائی کا مقصد دسمبر 2024 میں مارشل لا کے نفاذ کے لیے حالات سازگار بنانا اور اس کے لیے جواز پیدا کرنا تھا۔ یہ مقدمہ سابق صدر کے خلاف قائم کیے گئے کئی اہم مقدمات میں سے ایک ہے، جنہوں نے جنوبی کوریا کو حالیہ دہائیوں کے شدید ترین سیاسی بحران سے دوچار کر دیا تھا۔
یون سک یول نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کسی بھی غیر قانونی اقدام میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ سابق صدر نے نہ تو اس کارروائی کا حکم دیا اور نہ ہی بعد میں اس کی منظوری دی۔ دفاعی ٹیم کے مطابق ڈرون آپریشن مارشل لا کی تیاری کا حصہ نہیں تھا بلکہ شمالی کوریا کی جانب سے سرحد پار کچرے سے بھرے غبارے بھیجنے کے ردعمل میں کیا گیا تھا، استغاثہ نے رواں سال اپریل میں عدالت سے یون سک یول کو 30 سال قید کی سزا دینے کی استدعا کی تھی۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فروری میں ایک اور عدالت یون سک یول کو مارشل لا نافذ کرنے کی ناکام کوشش کے سلسلے میں بغاوت کی قیادت کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔
مزید پڑھیں: یونان کے امیگریشن قوانین میں سختی: غیر قانونی تارکینِ وطن کی واپسی کے لیے نئے اقدامات
یاد رہے کہ یون سک یول کو گزشتہ سال آئینی عدالت کی جانب سے مواخذے کی توثیق کے بعد صدارت سے ہٹا دیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں قبل از وقت انتخابات منعقد ہوئے۔ ان انتخابات میں لبرل امیدوار لی جے میونگ کامیاب ہو کر ملک کے نئے صدر منتخب ہوئے تھے۔
سابق صدر اس وقت زیرِ حراست ہیں اور تازہ عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں۔ وہ اپنے خلاف پہلے سے موجود دیگر فیصلوں کے خلاف بھی اپیلیں دائر کر چکے ہیں۔







