رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے اس لائن کو لبنان کے اندر کئی کلومیٹر تک پھیلا کر اسے ایک فوجی زون قرار دیا ہے، جو ماضی میں غزہ میں اختیار کیے گئے ماڈل سے مشابہت رکھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کے پس منظر میں اپنی فوجی موجودگی کو مستقل شکل دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس زون میں گھروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جب کہ کم از کم 55 قصبوں اور دیہات کو  نو گو ایریاز  قرار دے کر مقامی آبادی کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

اسی دوران غزہ میں بھی اسرائیلی فوج نے مشرقی علاقوں پر اپنا کنٹرول بڑھا دیا ہے اور فلسطینی آبادی کو محدود علاقوں تک سمیٹ دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس لائن کے قریب جانے والوں پر فائرنگ کی جاتی ہے، جب کہ پیچھے کے علاقوں میں گھروں کی مسماری اور فوجی چوکیوں کا قیام جاری ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اسرائیلی اہداف پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے ہیں، جنہیں وہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ردعمل قرار دیتا ہے۔

اسرائیل کا مؤقف ہے کہ یہ زون سرحدی علاقوں کو محفوظ بنانے اور حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ جنگ بندی معاہدے میں موجود ابہام ہے، جو ایک طرف لڑائی کے خاتمے کی بات کرتا ہے جب کہ دوسری جانب اسرائیل کو دفاعی اقدامات کے لیے وسیع اختیارات دیتا ہے۔ یہی تضاد اسرائیل کو اپنی مرضی کی تشریح کا موقع فراہم کر رہا ہے۔

بیروت میں قائم ایک قانونی ادارے کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے صرف تین دنوں میں 220 مرتبہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، جب کہ اسرائیلی حکام اب بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ جنگ بندی برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ ’ییلو لائن‘ برقرار رہی تو یہ مستقبل میں جنوبی لبنان میں ایک مستقل کنٹرول یا ممکنہ قبضے کو قانونی جواز دینے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام کا خطرہ بڑھ جائے گا۔