اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں جاری بیان میں سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹریس نے کہا کہ عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تنازعات نے دنیا کے امن کے خواب کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
انٹونیو گوٹریس کا کہنا تھا کہ مختلف خطوں میں جاری تنازعات کے باعث عالمی تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں فوجی اخراجات بھی تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طاقت کے توازن اور دفاعی صلاحیت بڑھانے کی دوڑ عالمی سلامتی کے لیے تشویشناک صورت اختیار کر چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی اور جدید ہتھیاروں کی تیاری نے جنگوں کو پہلے سے کہیں زیادہ مہلک بنا دیا ہے، نئی عسکری ٹیکنالوجیز اور ہتھیاروں کے نظام مستقبل کے تنازعات کو مزید تباہ کن بنا سکتے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر فوری طور پر مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو سکتی ہے جہاں کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران کی فضائی اور بحری قوت تباہ کر دی، اس کو روکنا ہماری اولین ترجیح ہے: ڈونلڈ ٹرمپ
دوسری جانب اقوام متحدہ نے عالمی توانائی کی سپلائی میں ممکنہ خلل اور اس کے معاشی اثرات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا کہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر دنیا کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر پڑتا ہے۔
ترجمان اقوام متحدہ کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف صنعتی شعبے بلکہ عام صارفین کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتا ہے، جس کے باعث مہنگائی میں اضافہ اور معاشی دباؤ بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔
واضع رہے کہ دنیا کے مختلف خطوں میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی امن کو درپیش خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے پیش نظر عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔







