خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافیل ماریانو گروسی نے بدھ کو اشارہ دیا کہ ادارے کے انسپکٹرز جلد ہی ایران کی حساس جوہری افزودگی کی تنصیبات کا دورہ کریں گے۔ یہ معائنہ امریکہ اور ایران کے درمیان عبوری امن معاہدے کا ایک اہم جزو سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم ایران نے اس مؤقف کو فوری طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی بھی قسم کے معائنے کی اجازت صرف اس وقت دی جا سکتی ہے جب فریقین کے درمیان حتمی اور جامع معاہدہ طے پا جائے۔
یہ اختلاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مارکو روبیو خلیجی ممالک کے دورے پر ہیں اور آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی ثالثی سے تکنیکی سطح کے مذاکرات دوبارہ شروع ہونے والے ہیں۔
معائنہ ہر صورت ہوگا، رافیل گروسی
جاپان میں واقع فوکوشیما دائیچی نیوکلیئر پاور پلانٹ کے دورے کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رافیل ماریانو گروسی نے کہا کہ سیاسی بیانات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک کے صدور ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر چکے ہیں۔
ان کے مطابق معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ جوہری مواد اور تنصیبات سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کرے گی، اور اس مقصد کے لیے معائنہ ناگزیر ہے۔
گروسی نے کہا کہ معائنہ دو دن بعد ہو یا دس دن بعد، اصل بات یہ ہے کہ یہ عمل بہرحال انجام پائے گا۔
ماہرین کے مطابق یہ معائنہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو اپنے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخائر محدود کرنا ہوں گے۔
ایران کا سخت ردعمل
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے گروسی کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔
انہوں نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ سوئٹزرلینڈ میں ایرانی وفد کی رافیل گروسی سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی، اس لیے ایسے بیانات زمینی حقائق کی عکاسی نہیں کرتے۔
کاظم غریب آبادی نے کہا کہ جوہری معائنے اور نگرانی سے متعلق تمام معاملات پر فیصلہ صرف حتمی معاہدے کے فریم ورک کے اندر ہی کیا جائے گا، اور وہ بھی اس وقت جب دوسرا فریق پابندیوں کے خاتمے اور دیگر وعدوں پر عملی پیش رفت دکھائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا کے ذریعے سنسنی پھیلا کر دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کامیاب نہیں ہو سکتی۔
مذاکرات کو درپیش نیا امتحان
تجزیہ کاروں کے مطابق جوہری معائنوں کے معاملے پر پیدا ہونے والا یہ اختلاف امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتا ہے۔ اگرچہ دونوں فریق امن معاہدے کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں، تاہم اعتماد، جوہری نگرانی اور پابندیوں کے خاتمے جیسے بنیادی معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔
آئندہ ہفتے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ فریقین اختلافات کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا امن معاہدے کا عمل مزید پیچیدگی کا شکار ہو جاتا ہے۔







