ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں تقریباً 18 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے دوران جوہری پروگرام سے متعلق کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی ایران نے اس حوالے سے کوئی نیا وعدہ کیا۔
Iran says cooperation with the IAEA will continue under existing procedures and in line with parliamentary approvals and decisions by the Supreme National Security Council.
— Roya News English (@RoyaNewsEnglish) June 22, 2026
For live updates: https://t.co/RrLS3CZVcz pic.twitter.com/iBwPUjo7rp
ذرائع کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے فریم ورک کے تحت جوہری مذاکرات کا باقاعدہ آغاز یادداشت کی شق نمبر 13 پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔
مفاہمتی یادداشت کے پیراگراف 13 کے مطابق حتمی معاہدے پر مذاکرات اسی وقت شروع ہوں گے جب شق نمبر 1، 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد ہو جائے۔
یادداشت کی پہلی شق کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کا فوری اور مستقل خاتمہ ضروری قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کو دوبارہ ایران آنے کی اجازت دینے پر اتفاق کر لیا ہے۔







