خبر رساں ایجنسی کے مطابق سابقہ جرمن حکومت نے افغان طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان شہریوں کو جرمنی میں پناہ دینے کے لیے ایک خصوصی اسکیم متعارف کرائی تھی۔ اس اسکیم کے تحت ان افغان شہریوں کو شامل کیا گیا تھا جنہوں نے جرمن فوج کے ساتھ کام کیا تھا یا جنہیں طالبان حکومت سے ممکنہ خطرات لاحق تھے۔

تاہم خبر ایجنسی کے مطابق نئے جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے پاکستان میں موجود 650 افغان شہریوں کے لیے اس اسکیم کو عارضی طور پر منجمد کر دیا تھا۔ اب جرمن حکومت نے ان میں سے 535 افغان شہریوں کو جرمنی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے ان افغان شہریوں کو اپنے کیسز کے حل کے لیے رواں سال کے اختتام تک کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ اس تناظر میں جرمن حکام پاکستانی حکام کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔

جرمن وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ جرمنی ان کیسز سے متعلق کارروائی جہاں تک ممکن ہو دسمبر میں مکمل کرنا چاہتا ہے، تاہم بعض ایسے معاملات بھی ہو سکتے ہیں جن پر نئے سال میں مزید کام کرنا پڑے گا۔