بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ملزمان نے شہر گیلزین کرشن میں اسپارکاسے بینک کی ایک مرکزی شاخ کے زیرِ زمین والٹ تک پہنچنے کے لیے ایک بڑا صنعتی ڈرل استعمال کیا۔ چوروں نے تین ہزار سے زائد لاکرز توڑے جن میں نقد رقم، سونا اور زیورات موجود تھے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے اس کارروائی کو ہالی وڈ کی مشہور ڈکیتی فلم اوشنز الیون سے تشبیہ دیتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ واردات انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں انجام دی گئی۔
پولیس کے مطابق پیر کی علی الصبح اس وقت واردات کا علم ہوا جب نیین ہوف شٹراسے پر واقع بینک برانچ میں فائر الارم بج اٹھا۔ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ملزمان نے کرسمس کے پرسکون دنوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عمارت میں داخلہ حاصل کیا اور بعد میں ملحقہ پارکنگ گیراج کے راستے فرار ہو گئے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی رات پارکنگ گیراج کی سیڑھیوں میں کئی افراد کو بڑے بڑے بیگ اٹھائے دیکھا گیا۔ پولیس کی جانب سے دیکھی گئی ویڈیو فوٹیج میں پیر کی صبح ڈی لا شیوَالری اسٹریٹ سے ایک سیاہ رنگ کی آؤڈی آر ایس 6 کو گیراج سے نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
الارم کے بعد جب ایمرجنسی سروسز نے عمارت کی تلاشی لی تو زیرِ زمین والٹ میں جانے والا سوراخ دریافت ہوا۔ تاحال کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور ملزمان فرار ہیں۔
بینک انتظامیہ اسپارکاسے کے مطابق تقریباً پچانوے فیصد لاکرز توڑے گئے ہیں، جس کے باعث صارفین کے متاثر ہونے کا امکان بہت زیادہ ہے۔ بینک نے متاثرہ صارفین سے ایک مخصوص ہیلپ لائن پر رابطہ کرنے کی اپیل کی ہے اور بتایا ہے کہ شاخ منگل کے روز بھی بند رہے گی۔
بینک کا کہنا ہے کہ ہر لاکر کے اندر موجود سامان دس ہزار تین سو یورو تک بیمہ شدہ ہے، جبکہ صارفین کو یہ بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی گھریلو انشورنس پالیسیوں میں اضافی کوریج کی جانچ کریں۔







