امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق پینٹاگون نے ابتدائی طور پر جرمنی سے تقریباً 5 ہزار امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کا اعلان کیا تھا، تاہم بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ بھی ہو سکتی ہے، جس نے صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا۔
یورپی حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی پیشگی اطلاع یا واضح وجوہات فراہم نہیں کی گئیں، جس کے باعث نیٹو کے رکن ممالک حیرت اور تشویش کا شکار ہیں، اس پیش رفت سے یورپ میں سکیورٹی توازن متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
pic.twitter.com/cAYxPXOpDs
— Naeem Aslam (@NaeemAslam23) May 4, 2026
🚨 GERMANY TROOP CUT SHOCK — NATO’S FREE RIDE IS GETTING SMALLER
President Trump says American troop numbers in Germany will go “way down,” beyond the planned cut of 5,000 from roughly 35,000 soldiers stationed there.
People watching Europe should read…
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان ایران سے متعلق پالیسی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق امریکا یورپی اتحادیوں کی جانب سے بعض عالمی تنازعات میں محتاط رویے پر بھی ناخوش ہے۔
ناروے کے وزیراعظم جونس گاہر سٹورے نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ اس فیصلے کو حد سے زیادہ ڈرامائی نہیں سمجھتے، تاہم یہ واضح اشارہ ہے کہ یورپ کو اپنی دفاعی ذمہ داریاں زیادہ سنجیدگی سے خود سنبھالنی ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاملے کو نیٹو کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے باہمی مشاورت سے حل کیا جانا چاہیے۔
ادھر یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس نے بھی امریکی فیصلے کو حیران کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کافی عرصے سے یورپ سے امریکی افواج کے انخلا کی باتیں ہو رہی تھیں، لیکن حالیہ اعلان نے اس بحث کو مزید تقویت دے دی ہے،اس صورتحال کے پیش نظر یورپ کو نیٹو کے اندر اپنے دفاعی کردار کو مضبوط بنانا ہوگا۔
کایا کالاس نے اس تاثر پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا کہ آیا یہ فیصلہ جرمن قیادت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی وضاحت صرف امریکی قیادت ہی دے سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے برسر اقتدار آنے کے بعد سے ہی یورپی اتحادیوں اور کینیڈا کو یہ خدشہ لاحق تھا کہ امریکا اپنی فوجی موجودگی میں کمی کر سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی کچھ امریکی فوجیوں کو رومانیہ سے واپس بلایا جا چکا ہے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ کسی بھی بڑے فیصلے سے قبل اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا تاکہ سکیورٹی خلا پیدا نہ ہو۔
واضح رہے کہ جرمنی سے امریکی فوجیوں کی واپسی نہ صرف یورپ کی دفاعی حکمت عملی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ نیٹو اتحاد کے مستقبل اور امریکا-یورپ تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔







