مقامی وقت کے مطابق دھماکے رات 9 بج کر 50 منٹ پر ہوئے، جن کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔ عینی شاہدین کے مطابق دونوں دھماکے ایک کے بعد ایک ہوئے، جن کے جھٹکوں سے قریبی گھروں اور عمارتوں کے شیشے تک لرز اٹھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق متعدد رہائشیوں اور غیر ملکی شہریوں نے خود کو محفوظ مقامات پر منتقل کرلیا، جب کہ شہر کے مختلف علاقوں میں سائرن کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے ایک رپورٹر نے بتایا کہ دھماکوں کے جھٹکے ان کے رہائشی علاقے تک محسوس کیے گئے۔ سوشل میڈیا پر بھی کابل کے شہریوں نے دھماکوں کی ویڈیوز اور تصاویر شیئر کیں، جن میں خوفزدہ عوام کو پناہ ڈھونڈتے دیکھا جا سکتا ہے۔
د کابل په ښار کې د یوې چاودنې غږ اوریدل شوی.
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) October 9, 2025
خو څوک دې تشویش نه کوي، خیر او خیرت ده، د حادثې پلټنه روانه ده، تر اوسه د کوم زیان په اړه راپور نه دی ورکړل شوی.
صدای یک انفجار در کابل شنیده شد.
تحقیقات جریان دارد، تا کنون گزارش کدام زیانی داده نشده است خیر و خیرت می باشد.
طالبان ترجمان زبیح اللہ مجاہد نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کرتے ہوئے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا ہے کہ کابل میں دھماکے کی آواز سنی گئی ہے، تاہم کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔







