یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پا گیا ہے، جب کہ مصری میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ معاہدہ پہلے ہی نافذ ہو چکا ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق، غزہ جنگ بندی پر عمل درآمد کا باضابطہ آغاز حکومت کی جانب سے منظوری کے بعد ہی کیا جائے گا۔
عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز نے مصر کے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ جنگ بندی معاہدہ دوپہر کے وقت مصر میں دستخط ہونے کے بعد ہی نافذ ہو چکا ہے، لیکن اسرائیلی حکام نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کی منظوری کے لیے تاحال کابینہ کی منظوری درکار ہے۔
اس مقصد کے لیے اسرائیلی کابینہ کا اجلاس آج شام طلب کیا گیا ہے، جس میں جنگ بندی معاہدے پر ووٹنگ کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق، امکان ہے کہ معاہدہ منظور کر لیا جائے گا، جس کے بعد جنگ بندی رسمی طور پر نافذ ہو جائے گی۔
اسرائیلی حکومت کے ترجمان شوش بدروسیان کے مطابق کابینہ سے منظوری کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر جنگ بندی نافذ ہو جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کے مؤثر ہونے کے بعد 72 گھنٹوں کے اندر اسرائیلی یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کا عمل شروع کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ آج مصر میں طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے پر فریقین نے دستخط کر دیے ہیں، جس کے مطابق جنگ چند روز کے لیے روک دی جائے گی، امدادی سامان کو غزہ میں داخل ہونے دیا جائے گا اور یرغمالیوں کی رہائی ممکن بنائی جائے گی۔







