اپنی پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ خامنہ ای امریکی خفیہ اداروں اور جدید ترین نگرانی کے نظام سے بچ نہیں سکے اور اسرائیل کے ساتھ قریبی تعاون کے نتیجے میں وہ اور ان کے ساتھ موجود دیگر رہنما مارے گئے۔ تاہم انہوں نے اپنے اس دعوے کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا۔

ٹرمپ نے مزید لکھا کہ یہ ایرانی عوام کے لیے اپنے ملک کو واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ہے۔ ان کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب، فوج، سیکیورٹی اداروں اور پولیس کے کئی اہلکار مزید لڑنا نہیں چاہتے اور معافی یا تحفظ چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا: “جیسا کہ میں نے کہا تھا، اب انہیں معافی مل سکتی ہے، بعد میں انہیں صرف موت ملے گی۔” ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ پاسدارانِ انقلاب اور پولیس ایرانی محبِ وطن عناصر کے ساتھ مل کر ملک کو اس عظمت کی طرف واپس لے جائیں گے جس کا وہ حقدار ہے۔

اپنے بیان کے اختتام پر ٹرمپ نے کہا کہ شدید اور انتہائی ہدفی بمباری اس وقت تک بلا تعطل جاری رہے گی جب تک مشرقِ وسطیٰ اور پوری دنیا میں امن قائم نہیں ہو جاتا۔

تاحال ایرانی حکام کی جانب سے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، اور آزاد ذرائع سے بھی اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے، جس کے باعث صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔