یومِ خلیج فارس کے موقع پر اپنے پیغام میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دو ماہ تک جاری رہنے والی بڑی عالمی کشیدگی اور امریکی منصوبوں کی  ناکامی  کے بعد خطے میں نئی صورتحال جنم لے رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج خلیج فارس اور آبنائے ہرمز میں ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے اور یہ مستقبل خطے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ہو گا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے دعویٰ کیا کہ خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ امریکی فوجی موجودگی ہے اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ امریکی اڈے نہ تو اپنی حفاظت کر سکتے ہیں اور نہ ہی خطے کے دیگر ممالک کی سلامتی یقینی بنا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ خلیج فارس میں امریکی موجودگی ہی عدم تحفظ کی سب سے بڑی وجہ ہے اور امریکی اتحادی اڈے بھی مؤثر دفاع کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ایرانی رہنما نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال کر اس اہم آبی گزرگاہ کو محفوظ بنائے گا اور  دشمن قوتوں کے استحصال  کا خاتمہ کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے  نئے نظام  کے تحت قانونی قواعد اور ان کا نفاذ خطے کے تمام ممالک کے لیے ترقی، استحکام اور آسائش کا باعث بنے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی وزیرخزانہ جیسے لوگوں کے فضول مشورے تیل کو 120 ڈالر تک لے گئے: باقر قالیباف

اپنے بیان میں مجتبیٰ خامنہ ای نے تاریخی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز ماضی میں بھی عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے اور 1622 میں پرتگالی افواج کے انخلا کو ایک اہم موڑ قرار دیا۔

سپریم لیڈر نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران اپنی جوہری اور میزائل صلاحیتوں کو  قومی اثاثہ  سمجھتا ہے اور ان کی حفاظت اسی طرح کرے گا جیسے اپنی سرحدوں، پانی، زمین اور فضا کی کرتا ہے۔