چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق وانگ یی نے کہا ہے کہ بڑھتی ہوئی تحفظ پسندی اور یکطرفہ اقدامات کے باعث آزاد تجارت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے، ایسے میں ایف ٹی اے کی تکمیل ناگزیر ہو چکی ہے۔
چینی وزیر خارجہ نے اتوار کو ریاض میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی سے ملاقات کے دوران کہا کہ یہ مذاکرات 20 سال سے زائد عرصے سے جاری ہیں اور اب تمام پہلوؤں کے حوالے سے حالات سازگار ہو چکے ہیں، اس لیے حتمی فیصلہ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ ایک کامیاب آزاد تجارتی معاہدہ دنیا کو کثیرالجہتی نظام کے دفاع کا مضبوط پیغام دے گا۔
انہوں نے کہا کہ چین جی سی سی کی اسٹریٹجک خودمختاری، باہمی ہم آہنگی اور انضمام کے عمل کو آگے بڑھانے کی بھرپور حمایت کرتا ہے اور معیشت، تجارت، سرمایہ کاری سمیت دیگر شعبوں میں تعاون مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے۔
Chinese Foreign Minister Wang Yi said that China stands ready to strengthen strategic communication with the Gulf Cooperation Council (GCC), safeguard common interests, and jointly respond to a turbulent and changing international landscape, so as to make new contributions to the… pic.twitter.com/6YgTHWOUpl
— CCTV+ (@CCTV_Plus) December 15, 2025
دریں اثنا چین اور سعودی عرب نے علاقائی اور عالمی امور پر قریبی رابطے اور تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔
چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود سے ملاقات میں کہا کہ چین سعودی عرب کو مشرق وسطیٰ کی سفارت کاری میں ایک ترجیحی اور عالمی سطح پر اہم شراکت دار سمجھتا ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں ممالک نے توانائی، سرمایہ کاری، نئی توانائی اور گرین ٹرانسفارمیشن کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات میں وانگ یی نے کہا کہ چین سعودی عرب کی ترقی اور بحالی میں ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر کردار ادا کرنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مثبت عوامل شامل کرنے کے لیے تیار ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق چین اور سعودی عرب نے سفارتی اور خصوصی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا سے باہمی استثنا پر بھی اتفاق کیا ہے۔







