عراق کے دارالحکومت بغداد میں عراقی وزیر خارجہ فواد حسین کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال نے ثابت کر دیا ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی اجتماعی سلامتی کے لیے ایک نئے نظام کی ضرورت ہے، جس میں تمام علاقائی ریاستیں شامل ہوں اور کسی غیر علاقائی طاقت کو کردار ادا کرنے کی ضرورت نہ ہو۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کی صورتحال پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے اور آئندہ 30 روز تک اس اہم بحری گزرگاہ کی نگرانی جاری رکھی جائے گی، خلیج میں بحری آمدورفت کی بحالی کے عمل میں کسی بھی بیرونی فریق کی مداخلت معاملات کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ حالیہ جنگ اور کشیدگی نے نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے، اس لیے تمام ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق ہوا ہے اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں،  عراقی ہم منصب کے ساتھ علاقائی سلامتی، دوطرفہ تعلقات اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ موجودہ علاقائی حالات میں ان کا دورۂ عراق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے عراق کی نئی حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بغداد کی جانب سے پرتپاک استقبال پر شکریہ بھی ادا کیا۔

عباس عراقچی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنان کے زیر قبضہ علاقوں سے فوری انخلا کرے اور حملے بند کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مفاہمتی یادداشت کے تحت لبنان پر اسرائیلی حملے روکنا امریکا کی ذمہ داری ہے اور واشنگٹن کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے سلسلے میں عراق کے دو شہروں میں خصوصی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی تنصیبات پر حملے کردیے

اس موقع پر عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے اطراف اب بھی کشیدگی برقرار ہے اور حالیہ جھڑپوں کے باعث عراقی تیل کی برآمدات بھی متاثر ہوئیں، جنگ کا تسلسل پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا، اس لیے تمام فریقین کو کشیدگی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے چاہییں۔

فواد حسین نے مزید کہا کہ عراق خطے میں امن، استحکام اور بحری راستوں کی حفاظت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، ایران کے ساتھ عراق کے تعلقات اسٹریٹجک تعاون پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک مغربی ایشیا میں سکیورٹی اور استحکام کے فروغ کے لیے تعاون جاری رکھیں گے۔