اخبار کے مطابق سعودی عرب، قطر اور عمان نے واشنگٹن سے فوری رابطہ کیا اور ٹرمپ انتظامیہ کو فوجی کارروائی روکنے پر آمادہ کیا۔ ان ممالک کا مؤقف تھا کہ تہران کو اپنے اچھے عمل کا مظاہرہ کرنے کا ایک اور موقع دیا جانا چاہیے۔
🚨 Donald Trump was pulled back from striking Iran by last-minute diplomatic efforts from Gulf states, it is understood.
— The Telegraph (@Telegraph) January 15, 2026
Follow the latest updates ⬇️https://t.co/gCqkUQg6gf pic.twitter.com/I3a3paAqi6
اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے ایرانی مظاہرین سے کہا تھا کہ مدد آ رہی ہے۔ تاہم بدھ کی رات وہ اس ممکنہ اور تقریباً یقینی حملے کے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ ایران میں ہلاکتیں کم ہو رہی ہیں، اس لیے کارروائی مؤخر کی جا رہی ہے۔ اسی دوران اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ ایران نے احتجاج کرنے والوں کو پھانسیاں دینے کا فیصلہ روک دیا ہے۔
ایک سینئر سعودی عہدے دار نے خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ خلیجی ممالک نے آخری لمحات میں طویل اور تھکا دینے والی سفارتی کوششوں کے ذریعے ٹرمپ کو قائل کیا کہ ایران کو ایک موقع مزید دیا جائے۔
ان ممالک نے یہ بھی انتباہ کیا تھا کہ کسی بھی حملے کے خطے میں سنگین اور بھیانک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ سعودی عہدے دار کے مطابق یہ ایک ایسی رات تھی جس میں سفارت کاری کے ذریعے بموں کو ڈی فیوز کرنے کی کوشش کی گئی۔
اخبار نے یہ بھی لکھا کہ ترکیے اور مصر نے بھی ٹرمپ کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی اور تنبیہ کی کہ ایران پر امریکی حملہ نہ صرف خطے کے ممالک کو متاثر کرے گا بلکہ عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں پر بھی شدید منفی اثر ڈالے گا۔
⚡️BREAKING
— Iran Observer (@IranObserver0) January 15, 2026
US called off the attack on Iran after Saudi Arabia, Turkey, and other countries in the region exerted strong diplomatic pressure on Trump
Countries in the region warned Trump that Iran s retaliation would lead to an uncontrollable situation in the region pic.twitter.com/oKRYilend7
دی ٹیلی گراف کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنی نیشنل سکیورٹی ٹیم کو واضح ہدایات دی ہیں کہ ایران پر حملہ صرف اُس صورت میں کیا جائے گا جب اس کا ایرانی حکومت پر فیصلہ کن اثر پڑ سکے۔
دوسری جانب امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے کہا ہے کہ لوگ ابھی دیکھتے رہیں، ایران پر امریکی حملے کی بات ختم نہیں ہوئی۔بین الاقوامی میڈیا بھی اسی خدشے کا اظہار کر رہا ہے کہ ایران پر امریکی حملے کا خطرہ بدستور برقرار ہے۔
رپورٹس کے مطابق پینٹاگون کروز میزائلوں، جنگی بحری جہازوں اور لڑاکا طیاروں سے لیس ایک بحری بیڑہ مشرقِ وسطیٰ روانہ کر چکا ہے جو ایک ہفتے میں پہنچ جائے گا۔
امریکی اور برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایک مختصر اور فیصلہ کن کارروائی چاہتے ہیں، جس میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب، بسیج فورس اور پولیس کو کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔






