ایرانی وزارت خارجہ نے امریکا اور جی سی سی کے مشترکہ اعلامیے کو مداخلت پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خطے میں محاذ آرائی پر مبنی رویے علاقائی استحکام کے لیے نقصان دہ ثابت ہوں گے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جی سی سی ممالک کی سلامتی کے حوالے سے امریکا کے دعوے حقیقت کے منافی ہیں اور خطے میں امریکی فوجی موجودگی امن و استحکام کی ضامن نہیں بلکہ خطے کے عوام پر ایک بوجھ اور عدم استحکام و تقسیم کا سبب ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور سہولتوں کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کیا گیا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکا علاقائی ممالک کی سلامتی اور باہمی تعلقات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔
ایران نے خلیجی ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین یا فوجی تنصیبات کو ایران کے خلاف کسی بھی غیر قانونی کارروائی، منصوبہ بندی یا حمایت کے لیے استعمال نہ ہونے دیں۔
وزارت خارجہ نے امریکا اور بعض خلیجی ممالک کی جانب سے فلسطینی اور لبنانی مزاحمتی تحریکوں کو ایرانی پراکسیز قرار دینے کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اور لبنانی عوام کی قابض قوتوں کے خلاف جدوجہد بین الاقوامی قانون کے تحت جائز ہے۔
ایران نے ایک بار پھر اپنے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے عائد کیے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ ایران کو خطرہ ظاہر کرنے والی پالیسیوں کا حصہ بننے کے بجائے مشرقِ وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کی کوششوں کی حمایت کریں۔
لازمی پڑھیں: جنگ بندی کے باوجود حملے جاری، اسرائیل لبنان سے انخلا سے انکار کیوں کررہا ہے؟
بیان میں مزید کہا گیا کہ آبنائے ہرمز، ایران اور عمان کے ساحلی علاقوں اور علاقائی سمندری حدود کی سلامتی متعلقہ مفاہمتی یادداشت کے مطابق یقینی بنائی جائے گی۔
ایران نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے کی سلامتی صرف علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ممکن ہے، نہ کہ بیرونی طاقتوں پر انحصار کے ذریعے، کیونکہ غیر ملکی مداخلت نے ماضی میں بارہا مشرقِ وسطیٰ کے امن و استحکام کو نقصان پہنچایا ہے۔






