عالمی خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق انہیں چار عرب ریاستوں کے ذرائع نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے لیے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی ڈیڈ لائن میں توسیع کر دی ہے، جو عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 فیصد سپلائی فراہم کرتا ہے اور یہ توانائی کے پلانٹس کی ممکنہ تباہی سے بھی جڑا ہوا ہے۔
ذرائع نے روئٹرز کو بتایا کہ خلیجی پالیسی سازوں کے لیے سب سے بڑا سوال اب یہ نہیں رہا کہ جنگ کیسے ختم ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بعد خطے میں کس قسم کی علاقائی ترتیب قائم ہوگی۔ ذرائع کے مطابق، خلیجی حکام نے واشنگٹن کو بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے ان کے لیے کوئی سفارتی آف ریمپ نہیں چھوڑا۔
خلیجی ذرائع نے مزید کہا کہ حکام چاہتے ہیں کہ کوئی بھی معاہدہ توانائی اور شہری اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں، تیل اور جہاز رانی کے راستوں پر خطرات اور پراکسی وارفیئر پر موثر پابندیوں کو یقینی بنائے۔
ان کا کہنا ہے کہ معاہدے میں واضح طور پر یہ طے ہونا چاہیے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کبھی جنگ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جائے گا اور خلیجی ریاستوں کے تحفظات کو خطے کے مستقبل کے ڈھانچے میں شامل کیا جائے۔
امارات پالیسی سینٹر کے صدر ابتسام الکربی نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ اصل چیلنج ایران کو صرف جنگ روکنے پر آمادہ کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ خلیج دوبارہ انہی خطرات کا شکار نہ ہو جو اس بحران کو ممکن بناتے ہیں۔
متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے کہا کہ جنگ کو محض ایک بحران کے طور پر منجمد کرنا کافی نہیں بلکہ یہ ایک امتحان ہے کہ آیا ایران عالمی معیشت کو دوبارہ یرغمال بنا سکتا ہے۔
انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے لیے ایک کالم میں لکھاکہ ایک سادہ جنگ بندی کافی نہیں۔ ہمیں ایک حتمی نتیجہ چاہیے جو ایران کے خطرات کی مکمل رینج کو حل کرے، جوہری صلاحیت، میزائل، ڈرون، پراکسی دہشت گردی اور بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت شامل ہو۔
العتیبہ نے مزید کہا کہ صرف میزائل، ڈرون اور پراکسی وارفیئر پر محدود معاہدہ اگلے بحران کو صرف مؤخر کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران جنگ کو آسان دکھانے اور ٹرمپ کو شامل کروانے پر جی ڈی وینس نے نیتن یاہو کو جھاڑ پلادی، برطانوی میڈیا
خلیجی معیشتیں جو توانائی کی برآمدات اور بین الاقوامی نقل و حمل پر بہت انحصار کرتی ہیں، جنگ کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہیں، جس سے عالمی معیشت پر دباؤ پڑا، توانائی کی قیمتیں بڑھی، سپلائی چین میں خلل پیدا ہوا اور مہنگائی میں اضافہ ہوا۔
امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق امریکا کے پاس ایران کے وسیع میزائل ہتھیاروں کا تقریباً ایک تہائی حصہ تباہ کرنے کی معلومات موجود ہیں۔
ایران کی جوہری افزودگی جو جوہری ہتھیار بنانے کے عمل کا حصہ ہے، 2015 کے معاہدے کے تحت محدود تھی، لیکن تہران نے خطے میں میزائل، ڈرون، پراکسی وارفیئر اور سمندری سلامتی کے خطرات برقرار رکھے۔ خلیجی ریاستوں کا کہنا ہے کہ خطے کی استحکام کے لیے اس امکان کو اب ختم کرنا ضروری ہے۔
2018 میں ٹرمپ نے 2015 کے ایران جوہری معاہدے سے امریکا کی دستبرداری کا اعلان کیاتھا، جسے عیب دار اور یک طرفہ قرار دیا اور کہا کہ یہ امریکی مفادات کے مطابق نہیں، جب کہ حالیہ ایران کے حملوں نے متحدہ عرب امارات کو واشنگٹن کے قریب کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خلیجی ریاستیں قطر، عمان اور کویت اقتصادی بحران اور انتقامی کارروائیوں کے خوف سے جنگ کے فوری خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہیں۔
متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور بحرین کا کہنا ہے کہ وہ جنگ میں اضافے کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن جنگ کے بعد ایران کو قبول نہیں کریں گے اگر وہ دوبارہ آبنائے ہرمز کو سودے بازی یا بلیک میل کے لیے استعمال کرنے کے قابل ہو۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت بہت بہتر قرار دی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ڈیڈ لائن 7 اپریل تک بڑھا دی۔ تاہم، ایرانی اہلکاروں نے امریکی تجویز کو یک طرفہ اور غیر منصفانہ قرار دیا اور خلیج میں امریکی اڈوں کی بندش کا مطالبہ کیا۔
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور گرگاش نے کہا کہ ایران کے حملوں کے گہرے جغرافیائی سیاسی اثرات تھے اور یہ خطے کی اسٹریٹجک سوچ میں مرکزی خطرہ ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات اور واشنگٹن کے درمیان سیکورٹی تعلقات مضبوط ہوں گے۔
سعودی عرب میں قائم گلف ریسرچ سنٹر کے چیئرمین عبدالعزیز ساگر نے کہا کہ خلیجی ریاستوں کا پیغام واشنگٹن کے لیے واضح ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں خلیجی ریاستوں کی سلامتی کو براہِ راست حل اور ضمانت فراہم کی جائے۔
یہ موقف خلیج تعاون کونسل (بحرین، کویت، سعودی عرب، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات) نے بھی تقویت دی۔ سیکرٹری جنرل جاسم البدوی نے کہا کہ ایران نے تمام حدیں پار کر دی ہیں اور خلیج وسیع جنگ سے بچنے کے لیے تحمل کا مظاہرہ کرے گا، لیکن دوبارہ نشانہ بننا قبول نہیں کرے گا۔
امریکی اہلکاروں اور خلیجی ذرائع کے مطابق ٹرمپ ایران کے اسٹریٹجک آئل ہب، کرگ جزیرے پر قبضے کے لیے زمینی افواج تعینات کرنے پر غور کر رہے ہیں، جو ایران کی تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات کو سنبھالتا ہے۔
خلیجی ذرائع کا کہنا ہے کہ زمین پر فوجی کارروائی سے جنگ پھیل سکتی ہے، ایران اہم جوابی کارروائی کرے گا، اور خلیجی توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچ سکتا ہے، لیکن خلیجی ریاستیں امریکیوں پر زور دے رہی ہیں کہ ایران کی کروز اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو کم کیا جائے، کیونکہ یہ ان کے لیے سب سے بڑا دیرینہ خطرہ ہیں۔







