انڈین میڈیا کے مطابق پرتھوی راج چوہان نے پونے میں پارٹی کارکنان کے ایک اجلاس سے مراٹھی زبان میں خطاب کیا، جہاں انہوں نے نہ صرف بڑی فوج برقرار رکھنے کی ضرورت پر سوال اٹھایا بلکہ مستقبل کی جنگوں کی نوعیت پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ آنے والی جنگیں زمین پر نہیں بلکہ فضا میں لڑی جائیں گی۔

آپریشن سندور کا حوالہ دیتے ہوئے پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ پہلے ہی دن ہمیں مکمل طور پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کا کہنا تھا کہ سات مئی کو ہونے والی فضائی لڑائی، جو صرف آدھے گھنٹے تک جاری رہی، اس میں انڈیا کو مکمل شکست ہوئی، چاہے کوئی اس حقیقت کو مانے یا نہ مانے۔

کانگریس رہنما کے مطابق اس دن انڈین فضائیہ کے طیارے مار گرائے گئے، جس کے بعد پوری فضائیہ کو گراؤنڈ کر دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے بعد ایک بھی انڈین طیارہ پرواز نہیں کر سکا، کیونکہ گوالیار، بھٹنڈہ یا سرسا سے جیسے ہی کوئی طیارہ اڑنے کی کوشش کرتا، پاکستان کی جانب سے اسے مار گرائے جانے کا شدید خطرہ لاحق ہوتا۔ اسی خدشے کے باعث پوری انڈین فضائیہ کو زمین پر روک دیا گیا۔

پرتھوی راج چوہان کے ان بیانات پر ردِعمل دیتے ہوئے بی جے پی کے ترجمان شہزاد پونا والا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر سخت تنقید کی۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی انڈین مسلح افواج سے نفرت کرتی ہے اور فوج کی تضحیک کرنا ہی کانگریس کی اصل پہچان بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات ملک کے دفاعی اداروں کے حوصلے پست کرنے کے مترادف ہیں۔

اُن کے بیان سامنے آنے کے بعد جب میڈیا نے اُن سے سوال کیا کہ آپ اپنے بیان پر معافی مانگیں گے یا نہیں، جواب میں انہوں نے کہا کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ میں اس پر کسی سے معافی مانگوں۔

واضح رہے کہ پرتھوی راج چوہان تعلیمی اعتبار سے ایک انجینئر ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے سے مکینیکل انجینئرنگ میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں امریکا میں اینٹی سب میرین وارفیئر کے لیے طیارہ جاتی آلات اور آڈیو ریکارڈرز کی ڈیزائننگ کے شعبے میں بھی کام کیا۔

1974 میں انڈیا واپس آ کر انہوں نے بطور کاروباری شخصیت اپنے پیشہ ورانہ کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی سے ملاقات کے بعد سیاست کی جانب مائل ہوئے اور اپنی عملی زندگی کے بیشتر حصے میں انڈین نیشنل کانگریس سے وابستہ رہے۔