ٹرمپ کا دعویٰ کیا ہے؟

ٹرمپ نے کہا کہ چین نے تقریباً 22 کروڑ امریکی ووٹرز کا رجسٹریشن ڈیٹا حاصل کیا، جس میں نام، پتے اور دیگر معلومات شامل تھیں۔

ان کا مؤقف ہے کہ حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی خفیہ انٹیلی جنس دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ بیجنگ نے 2020 کے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔ ساتھ ہی انہوں نے دوبارہ سخت ووٹر شناختی قوانین اور انتخابی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا۔

کیا انٹیلی جنس رپورٹس ٹرمپ کے دعوے کی تصدیق کرتی ہیں؟

اب تک سامنے آنے والی امریکی انٹیلی جنس رپورٹس ٹرمپ کے بنیادی دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتیں۔

2021 کی امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق چین نے امریکی ووٹرز سے متعلق معلومات ضرور جمع کیں، تاہم ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ اس نے ووٹوں کی گنتی تبدیل کی یا انتخابی نتائج میں براہِ راست مداخلت کی۔

بعض انٹیلی جنس اہلکاروں نے یہ رائے ضرور دی تھی کہ چین رائے عامہ پر اثر ڈالنے کی کوشش کر سکتا تھا، مگر یہ اکثریتی مؤقف نہیں تھا۔

چین کا ردعمل کیا ہے؟

چین نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات خصوصاً انتخابات میں مداخلت نہیں کرتا۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ امریکی انتخابات کا فیصلہ صرف امریکی عوام کرتے ہیں اور چین کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

ڈیموکریٹس اور ناقدین کیا کہہ رہے ہیں؟

ڈیموکریٹ رہنماؤں اور متعدد ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ ایسے دعوے بغیر ٹھوس شواہد کے دہرا رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں کی متفقہ رائے یہی رہی ہے کہ 2020 کے انتخابات میں چین نے ووٹوں کو تبدیل نہیں کیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ بیانیہ آئندہ انتخابات سے پہلے انتخابی نظام پر عوامی اعتماد کمزور کر سکتا ہے۔

حقیقت کیا ہے؟

تاحال دستیاب شواہد کے مطابق یہ ضرور سامنے آیا ہے کہ چینی اداروں نے امریکی ووٹرز سے متعلق ڈیٹا اکٹھا کیا، لیکن اس بات کا کوئی مصدقہ ثبوت موجود نہیں کہ چین نے 2020 کے امریکی صدارتی انتخاب کے نتائج تبدیل کیے یا ووٹنگ کے عمل میں براہِ راست مداخلت کی۔

اسی لیے ٹرمپ کے حالیہ دعووں نے ایک بار پھر امریکی انتخابی سیاست، قومی سلامتی اور امریکا۔چین تعلقات پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے، جب کہ اس معاملے پر سیاسی اختلاف بدستور برقرار ہے۔