ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ کینیڈا خود کو آہستہ آہستہ تباہی کی طرف لے جا رہا ہے، جبکہ اس دوران چینی اثرات خطرناک حد تک بڑھتے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا کے متعدد کاروبار امریکا منتقل ہو رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کینیڈین معیشت دباؤ کا شکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ کینیڈا ایک مضبوط، خودمختار اور ترقی کرتا ہوا ملک رہے، مگر موجودہ پالیسیاں کینیڈا کو کمزور کر رہی ہیں۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین نہ صرف معاشی بلکہ سیاسی سطح پر بھی کینیڈا میں اپنی گرفت مضبوط کر رہا ہے، جس پر انہیں گہری تشویش ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ بھی کہا کہ انہیں امید ہے کہ چین کم از کم آئس ہاکی جیسے کینیڈا کے قومی کھیل سے دور رہے گا، جسے کینیڈین شناخت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ اور تنقید کا سامنا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کل مسئلہ کشمیر کو بھی بورڈ آف پیس میں لا سکتے ہیں، برطانوی میڈیا
دوسری جانب کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کینیڈا چین کے ساتھ آزاد تجارت کا حامی ہے، تاہم قومی مفادات، خودمختاری اور سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا اپنی خارجہ اور تجارتی پالیسی آزادانہ طور پر طے کرنے کا حق رکھتا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی ڈونلڈ ٹرمپ کینیڈا پر تنقید کرتے رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے انہوں نے کینیڈین مصنوعات پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی دھمکی دی تھی، جسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی کشیدگی میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات امریکا، کینیڈا اور چین کے درمیان تعلقات پر نئے سوالات کھڑے کر رہے ہیں، جبکہ خطے میں معاشی اور سفارتی تناؤ مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔







