سوشل میڈیا پلیٹ ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ چین کینیڈا کو مکمل طور پر نگل جائے گا، ان کے کاروبار، سماجی ڈھانچے اور طرز زندگی کو تباہ کر دے گا۔ اگر کینیڈا چین کے ساتھ معاہدہ کرتا ہے تو فوری طور پر امریکی مارکیٹ میں آنے والی تمام کینیڈین مصنوعات پر 100 فیصد ٹیرف لگ جائے گا۔

ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا کہ چین کینیڈا کو امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرے گا۔ اگر گورنر کارنی سوچتے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چین کے لیے  ڈراپ آف پورٹ  بنا سکتے ہیں تاکہ وہاں سے سامان امریکا بھیجا جا سکے، تو وہ سخت غلط ہیں۔

واضح رہے کہ کینیڈین وزیراعظم کارنی نے حال ہی میں چین کا دورہ کیا اور اس ایشیائی طاقت کو  قابل اعتماد اور پیش گوئی کے قابل شراکت دار  قرار دیا۔ انہوں نے ڈاؤوس میں یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت سے سرمایہ کاری حاصل کریں۔

حالیہ دنوں میں امریکا اور اس کے شمالی ہمسایہ کے درمیان تناؤ بڑھ گیا ہے۔ ٹرمپ نے جمعرات کو کینیڈا کو اپنے  بورڈ آف پیس  اقدام میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لی، جس کا مقصد عالمی تنازعات حل کرنا تھا۔

خیال رہے کہ یہ فیصلہ کارنی کے ڈاؤوس میں دئیے گئے خطاب کے بعد آیا، جہاں انہوں نے کھل کر طاقتور ممالک کی اقتصادی انضمام کو ہتھیار اور ٹیرف کو دباؤ کے طور پر استعمال کرنے پر تنقید کی تھی۔