عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق البرٹا کی عدالتِ عالیہ نے فیصلے میں کہا کہ اس طرح کا حلف مذہبی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

اس فیصلے کے بعد صوبائی حکومت کے پاس قانون میں تبدیلی کے لیے 60 دن کا وقت ہے، جس میں اسے یا تو اس حلف کو اختیاری بنانا ہوگا یا مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا۔

یہ مقدمہ سکھ وکیل نے 2022 میں دائر کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وکلاء کو بادشاہ کے لیے سچی وفاداری کا حلف دینا ان کے سکھ مذہب سے متصادم ہے۔

ایک زیریں عدالت نے یہ مقدمہ 2023 میں یہ کہہ کر خارج کر دیا تھا کہ یہ حلف علامتی نوعیت کا ہے، تاہم بعد ازاں اس فیصلے کو عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا گیا۔

عدالتِ عالیہ نے دسمبر 2025 میں زیریں عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شرط وکیل کو مذہبی عقائد کے برخلاف عمل پر مجبور کرتی ہے۔

عدالت نے کہا کہ پربجوت سنگھ وِرنگ سکھ ہیں اور ان کے عقیدے میں وفاداری صرف اکل پرکھ (سکھوں میں الٰہی ذات) کے لیے ہوسکتی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس لیے کسی بھی ملک کے بادشاہ کی وفاداری کا حلف لینا ان کے مذہبی اصولوں کے خلاف تصور ہوگا۔

یاد رہے کہ حلفِ وفاداری ایک ایسا رسمی بیان ہوتا ہے جس میں کسی ملک یا اس کے حکمران کے لیے سچی وفاداری کا اظہار کیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں اس کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے اور مختلف ادوار میں اسے قانوناً لازمی قرار دیا جاتا رہا ہے۔ 1609 کا سب سے قدیم قانون حکومتی عہدیداروں اور ارکانِ اسمبلی کے لیے وفاداری کا حلف دینا ضروری بناتا تھا۔

یہ قانون بعد میں کئی بار تبدیل ہوا، تاہم وفاداری کے حلف کا اصول برقرار رہا۔ 1858 کے ایکٹ کے تحت پرانے حلفوں کو یکجا کر کے ایک نیا حلف تشکیل دیا گیا، جس میں بادشاہت کے حامل افراد کے لیے وفاداری کا طریقہ وضع کیا گیا۔

بعد ازاں قانون سازی میں متعدد تبدیلیاں کی گئیں تاکہ مذہبی یا ضمیر کی بنیاد پر حلف سے انکار کرنے والوں کے لیے متبادل موجود رہے۔

مثال کے طور پر 1838 کے ایکٹ نے ایسے افراد کو رسمی حلف کے بجائے علامتی اور لفظی بیان دینے کی اجازت دی تھی۔

عدالتی تاریخ میں اس حوالے سے کئی تنازعات بھی سامنے آئے۔ 1999 میں مارٹن مک گینیس نے یورپی عدالتِ برائے انسانی حقوق میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ پارلیمنٹ کے اراکین کے لیے بادشاہ کو حلف دینا اظہارِ رائے کی آزادی کے منافی ہے، تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ حلفِ وفاداری کا مقصد عموماً ریاست کے بنیادی آئینی اصولوں سے وفاداری کو یقینی بنانا ہوتا ہے، لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ مذہبی یا ضمیر کی بنیاد پر انکار کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ کس حد تک ممکن بنایا جاتا ہے۔