عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیراعظم مارک کارنی نے اپنے تاریخی دورے کے دوران نئے عالمی نظام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چین اور کینیڈا کے درمیان ابھرتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری دونوں ممالک کو بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں نئی سمت دے سکتی ہے۔
بیجنگ میں چینی صدر شی جنپنگ سے ملاقات کے دوران کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ دنیا تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان حالیہ پیش رفت انہیں نئے عالمی نظام کے لیے بہتر طور پر تیار کرتی ہے۔
We’re forging a new strategic partnership with China — focused on trade, energy, agriculture, and other areas where we can make big gains for Canadian workers. pic.twitter.com/9BGSKv25Pu
— Mark Carney (@MarkJCarney) January 16, 2026
مارک کارنی کے مطابق یہ نیا اسٹریٹجک اشتراک استحکام، سلامتی اور خوشحالی کو فروغ دے گا اور زراعت، غذائی پیداوار، توانائی، فنانس اور ایگری فوڈ انڈسٹری جیسے شعبوں میں تاریخی فوائد فراہم کر سکتا ہے۔
جواب میں چینی صدر شی جنپنگ نے بھی ملاقات کو دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین اور کینیڈا کے درمیان صحت مند اور مستحکم تعلقات عالمی امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے مفید ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں یہ بہتری گزشتہ برس جنوبی کوریا میں ہونے والے اپیک اجلاس میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آئی۔
دورے کے دوران کینیڈین وزیراعظم نے اعلان کیا کہ چین یکم مارچ سے کینیڈین کینولا پر عائد ٹیرف کم کرکے 15 فیصد کر دے گا، جب کہ اس کے بدلے کینیڈا 49 ہزار چینی الیکٹرک گاڑیوں کو اپنی مارکیٹ میں جگہ دے گا۔
واضح رہے کہ امریکا اور کینیڈا کے تعلقات اس وقت کشیدہ ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ حال ہی میں کینیڈا پر بھاری ٹیرف عائد کر چکے ہیں اور متعدد بار کینیڈا کو امریکا کی 51 ویں ریاست بنانے کا متنازع بیان بھی دے چکے ہیں۔
Canada’s PM Mark Carney praised a renewed partnership with China’s Xi Jinping during a four-day visit to China: https://t.co/Twy6ZepwlC pic.twitter.com/zzD8qXZGuX
— Bloomberg (@business) January 16, 2026
چین اور کینیڈا کے تعلقات 2018 میں اس وقت خراب ہوئے تھے جب کینیڈا نے امریکا کی درخواست پر ایک چینی ٹیک ایگزیکٹو کو گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد دونوں ممالک میں تجارتی کشیدگی بڑھ گئی تھی۔
سابق کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے چینی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا تھا جس کے نتیجے میں چین نے بھی کینیڈین کینولا، سمندری خوراک اور گوشت پر پابندیاں لگا دیں، جس سے کینیڈا سے درآمدات میں 10.4 فیصد کمی ہوئی تھی۔







