کیوبا کے صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ کیوبا کسی ملک کے لیے خطرہ نہیں، تاہم اگر ملک پر حملہ کیا گیا تو عوام بھرپور مزاحمت کریں گے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ کیوبا نے 300 سے زائد فوجی ڈرون حاصل کر لیے ہیں اور ان کے ممکنہ استعمال سے متعلق منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ممکنہ اہداف میں امریکی بحری اڈہ گوانتانامو بے، امریکی جنگی جہاز اور فلوریڈا کا علاقہ کی ویسٹ شامل ہو سکتے ہیں۔
کیوبا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا ممکنہ فوجی مداخلت کے لیے جواز پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
Cuba warns US military action would cause bloodbath after drone report https://t.co/V8G70X06Ol https://t.co/V8G70X06Ol
— Reuters (@Reuters) May 18, 2026
دوسری جانب ہوانا کے شہریوں نے بھی امریکی دھمکیوں کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ شدید معاشی بحران اور ایندھن کی قلت کے باوجود کیوبا اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے وینزویلا سے تیل کی فراہمی محدود کیے جانے کے بعد کیوبا شدید توانائی بحران کا شکار ہے۔ ملک میں ایندھن کی قلت بڑھ چکی ہے، جب کہ کئی علاقوں میں روزانہ صرف ایک یا دو گھنٹے بجلی دستیاب ہوتی ہے۔
امریکا اور کیوبا کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، جب کہ دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے تناؤ کا شکار رہے ہیں۔






