عالمی خبررساں اداروں کے مطابق نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے تہران میں خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا ہے۔ ایران کے خلاف جاری آپریشن جب تک ضروری ہوگا جاری رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس جاری آپریشن کے لیے صبر و استقامت درکار ہے، یہ جنگ حقیقی امن کی طرف لے جائے گی۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ ان کی معلومات کے مطابق آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ حکام زندہ ہیں۔ ایران کی جانب سے حملوں کے آغاز کے بعد سے خامنہ ای کی کوئی نئی ویڈیو جاری نہیں کی گئی۔
نیتن یاہو نے ایرانی عوام سے براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ حملے انہیں آمریت کی زنجیروں سے آزاد ہونے کا موقع فراہم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے پاس نسلوں میں ایک بار ملنے والا موقع ہے کہ وہ حکومت کا تختہ الٹ دیں۔ بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکلیں اور یہ کام مکمل کریں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ آپ متحد ہوں اور ایک تاریخی مشن کے لیے یکجا ہو جائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل نے صبح کے وقت پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز، جوہری پروگرام سے وابستہ اعلیٰ عہدیداروں اور دیگر سینئر حکام کو نشانہ بنایا ہے اور آئندہ دنوں میں دہشت گرد رجیم کے ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔
مزید پڑھیں: امریکا-اسرائیل کے ایران پر حملے: عالم اسلام مشرق وسطیٰ میں مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے ، ترک صدر
نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا تاریخی قیادت پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے یہ کارروائی اس لیے کی کیونکہ ایران جوہری ہتھیار کے قریب پہنچ رہا تھا، جس سے خطے کے لیے خطرات میں اضافہ ہو رہا تھا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے عوام سے ہوم فرنٹ کمانڈ کی حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل بھی کی اور اشارہ دیا کہ ایران کے خلاف کارروائی مزید جاری رہ سکتی ہے۔







